مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر منتخب ہونے سے امریکا اور اسرائیل میں مایوسی پھیل گئی: علی لاریجانی

ایران میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے نئے سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد ایرانی قیادت کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آرہے ہیں جن میں اس فیصلے کو ملک کے لیے امید کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کی قومی سلامتی کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا سپریم لیڈر منتخب ہونا ایران کے لیے امید کا باعث بنا ہے جبکہ امریکا اور اسرائیل جیسے مخالف ممالک کے لیے یہ مایوسی کا سبب ہے۔

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ ماہرین کی مجلس یعنی مجلس خبرگان کی جانب سے انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کا رہنما منتخب کیے جانے سے دشمن قوتیں مایوس ہو گئی ہیں۔

ان کے مطابق وہ قوتیں جو ایران کے خلاف جنگی ماحول پیدا کرنا چاہتی ہیں، اس فیصلے سے مایوسی کا شکار ہیں۔

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کے دوران مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے موجودہ صورتحال پر حکومت کا مؤقف پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے اور ملک کی مسلح افواج مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

انہوں نے ایرانی فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی اور ان کی بہادری اور ثابت قدمی قابل تعریف ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ دشمن کو پسپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے دی جانے والی قربانیاں ایران کی تاریخ کا اہم حصہ بنیں گی۔

ترجمان نے اس موقع پر ایران میں موجود سفارتی مشنز کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ ایران میں اس وقت ایک سو سے زیادہ سفارتی مشنز موجود ہیں اور حکومت ان کی حفاظت اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ جنگی صورتحال کے دوران بعض فریقوں نے تمام سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں جس سے حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

جنگ بندی کے امکانات سے متعلق سوال کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس وقت ایسے معاملات پر بات کرنا مناسب نہیں کیونکہ فوجی جھڑپیں ابھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق اس مرحلے پر ایران کے لیے سب سے اہم چیز اپنی سرزمین کا دفاع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی بلکہ یہ جنگ اس پر مسلط کی گئی ہے، اس لیے یہ ایران کی پسند کی جنگ نہیں بلکہ ایک ناگزیر صورتحال ہے جس کا سامنا ملک کو کرنا پڑ رہا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران بعض خبروں کے حوالے سے بھی سوالات کیے گئے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گزشتہ ہفتے ایران کی جانب سے ترکیہ، قبرص اور آذربائیجان کی طرف میزائل یا گولہ بارود داغا گیا۔

اسماعیل بقائی نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی سرزمین سے ان ممالک کی طرف کسی قسم کے حملے نہیں کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے بعض حملوں کو جان بوجھ کر اس طرح پیش کیا گیا ہو تاکہ ایران اور دیگر ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کیے جا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔

ان کے مطابق ایران ہمیشہ علاقائی تعاون اور روابط کو اہمیت دیتا رہا ہے اور آئندہ بھی اس پالیسی پر قائم رہے گا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی دوسرے ملک کی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کی گئی تو ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے دفاعی اقدامات کو کسی ملک کے خلاف دشمنی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ صرف اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے کیے جاتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles