
وفاقی وزیر مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی توانائی کی تقریباً 90 فیصد ضرورت درآمدی وسائل سے پوری ہوتی ہے، اور آبنائے ہرمز میں کسی رکاوٹ کی صورت میں پانچ دن میں پہنچنے والا ایندھن بیس دن میں ملک پہنچے گا۔
علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی توانائی کی ضرورت کا 90 فیصد حصہ درآمد کیا جاتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر کسی بھی بحران یا خطے میں تنازع پاکستان کی توانائی سپلائی پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو عام حالات میں پانچ دن میں پہنچنے والا ایندھن تقریباً بیس دن میں ملک پہنچے گا، اور اگر سپلائی متاثر ہوئی تو اسے معمول پر آنے میں 10 سے 12 دن لگ سکتے ہیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو نیشنل ایمرجنسی کے طور پر دیکھ رہی ہے اور نجی شعبے کی لیکویڈیٹی کو تحفظ دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ توانائی کی فراہمی میں خلل نہ آئے۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں اور عوام سے درخواست کی کہ خدا کے لیے پیٹرول کی قیمت پر سیاست نہ کی جائے اور موقع کی نزاکت کو سمجھا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ جنگی کشیدگی طویل ہو گئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی دیکھنے کو ملیں گے۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ روسی خام تیل کو ریفائن کرنے کے لیے بہت زیادہ فرنس آئل درکار ہوتا ہے، اور پاکستان کی موجودہ ریفائنریز اس حد تک اپ گریڈ نہیں کہ وہ روسی تیل کو مؤثر انداز میں ریفائن کرسکیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے بھی بات کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایندھن پر عائد لیویز ختم کی جائیں تاکہ عوام پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ برڈن شیئرنگ کے اقدامات ایک سے دو روز میں واضح ہو جائیں گے۔
مزید برآں وزیر مملکت نے بتایا کہ توانائی کے فٹ پرنٹ کو کم کرنے کے لیے طرز زندگی میں تبدیلی کے اقدامات زیر غور ہیں، جن میں گھر سے کام کرنے کی پالیسی بھی شامل ہے تاکہ توانائی کے استعمال کو محدود کیا جا سکے اور ملکی توانائی کی ضرورت کو مؤثر طریقے سے مینج کیا جا سکے۔