بڑے فوجی حملے سے ایران کی حکومت ختم نہیں ہو سکتی: امریکی خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ

رپورٹ کے مطابق امریکا کی کسی بھی وسیع فوجی کارروائی کے باوجود ایران کی موجودہ مذہبی اور عسکری قیادت برقرار رہ سکتی ہے۔ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی انتظامیہ ممکنہ طویل فوجی مہم کے امکانات کو ظاہر کر رہی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی قومی انٹیلی جنس کونسل کی ایک خفیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکہ کا کوئی بھی بڑا فوجی حملہ ایران کی موجودہ حکومت اور فوجی قیادت کو ختم کرنے میں ناکام رہ سکتا ہے۔ ایران میں حزب اختلاف کے لیے حکومت پر قبضہ ممکن نہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ ایران ٹرمپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دے، ان کے لیے گھٹنے ٹیکنے کا مطلب تمام اصولوں سے انحراف ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ایران کا حکومتی اور عسکری ڈھانچہ اتنا مضبوط اور منظم ہے کہ کسی بھی بیرونی حملے کے باوجود قیادت برقرار رہ سکتی ہے۔ امریکی قومی انٹیلی جنس کونسل کے مطابق ایران کی قیادت کا نظام متعدد سطحوں پر قائم ہے، جس کی وجہ سے حملے کے بعد بھی حکومتی اور فوجی نظام کام کرتا رہے گا۔

رپورٹ میں امریکی زمینی افواج کے ایران میں داخلے یا کرد علاقوں میں بغاوت شروع کرنے جیسے متبادل راستے زیر غور نہیں آئے۔ اخبار کے مطابق خفیہ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہ ’بڑے پیمانے پر حملوں‘ سے مراد موجودہ فوجی کارروائی ہے یا نہیں۔

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی انتظامیہ نے ممکنہ طویل فوجی کارروائی کے امکانات کو واضح کیا ہے، جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ تو ابھی شروعات ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی اندرونی مخالفت یا سیاسی تقسیم کے باوجود بھی ملک کی قیادت پر اثر ڈالنا غیر یقینی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی خفیہ رپورٹس پالیسی سازوں کو ممکنہ خطرات، ردعمل اور خطے میں کشیدگی کے اثرات سے آگاہ کرنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایران کی مذہبی اور عسکری قیادت اتنی مضبوط ہے کہ اس پر کسی بھی بڑے حملے کے فوری اثرات مرتب ہونا مشکل ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق رپورٹ کے انکشافات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانا شروع کیا ہے۔

علاوہ ازیں، برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق حملوں کے دوران امریکی اسلحہ اسٹاکز میں کمی واقع ہو رہی ہے، جس سے دیگر ممالک، جیسے یوکرین، جو امریکا کی فوجی مدد پر انحصار کرتے ہیں، کی سکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ کچھ سینیٹرز نے اس بارے میں تشویش ظاہر کی ہے کہ موجودہ ہتھیاروں اور میزائلز کے استعمال سے مستقبل میں دیگر فوجی بحرانوں سے نمٹنا مشکل ہو جائے گا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت نے ایئر اسٹرائیکس کے فوری ردعمل میں عبوری قیادت کا ایک کونسل قائم کر دیا ہے، جو ملک کے آئندہ سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل کی ذمہ دار ہے۔

گارجین کے مطابق، امریکی حکام نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ موجودہ جنگ کے بعد امریکا کو چین اور روس کے خلاف مستقبل میں اپنے دفاعی اقدامات کے لیے اضافی اسلحہ اور وسائل کی ضرورت ہوگی۔

یہ خدشات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی اور امریکی فوجی کارروائی کے اثرات عالمی سیکیورٹی پر دیرپا اثر ڈال سکتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles