
ملک کے مختلف شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پٹرول پمپوں پر شہری لمبی قطاروں میں کھڑے ہیں اور کئی گھنٹے انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔
وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55، 55 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 321 روپے اور ڈیزل کی 335 روپے قیمت مقرر کی گئی ہے۔
نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور علی پرویز ملک نے میڈیا بریفنگ میں اس اضافے کا اعلان کیا۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھرکے شہروں میں پمپوں پر شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کراچی کے متعدد علاقوں، بشمول شاہراہِ فیصل میں پٹرول پمپ بند ہونے کے باعث گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
شہری کئی گھنٹے انتظار کرنے پر مجبور ہیں اور بعض پمپ مالکان اضافی قیمت وصول کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں شہری پٹرول پمپوں پر طویل قطاروں میں کھڑے ہیں۔ انتظامیہ نے عوام کے لیے کنٹرول روم نمبر 0519108084 جاری کر دیا ہے تاکہ شہری کسی بھی شکایت یا معلومات کے لیے رابطہ کر سکیں۔
حکومت کی جانب سے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد لاہور کے مختلف پٹرول پمپس پر رش لگ گیا، شہری مہنگا پیٹرول بھی لائنوں میں لگ کر لے رہے ہیں۔
خیرپور میں بھی شہریوں کے لیے پٹرول مہیا کرنے والے پمپ بند ہیں اور جہاں پٹرول دستیاب ہے وہاں بھی شہری 300 روپے سے زیادہ دے کر پٹرول حاصل نہیں کر سکتے۔