
امریکا کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی سب میرین نے بحرِ ہند میں ایک ایرانی جنگی جہاز کو ٹارپیڈو حملے سے ڈبو دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کارروائی بدھ کو کی گئی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار امریکا نے کسی دشمن کے جنگی جہاز کو اس طرح نشانہ بنایا ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا کہ ایرانی بحریہ اب خلیج فارس کی گہرائیوں میں پڑی ہے۔
اس سے قبل اطلاعات آئی تھیں کہ سری لنکا کی علاقائی حدود سے باہر ایک ایرانی فریگیٹ ڈبو دیا گیا جس کے نتیجے میں سو سے زائد افراد لاپتا ہو گئے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ حملہ امریکی سب میرین سے داغے گئے ٹارپیڈو کے ذریعے کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کا آغاز کر چکے ہیں اور مزید حملوں کی تیاریاں جاری ہیں۔
ان کے مطابق امریکا کے پاس درست نشانہ لگانے والے گریویٹی بموں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے استعمال کیا جائے گا۔
ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ امریکا ہمیشہ جیتنے کے لیے لڑتا ہے اور دشمن کو دوبارہ حملے کے قابل ہونے سے پہلے ہی کچل دے گا۔
امریکی وزیر دفاع نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی اور دعویٰ کیا کہ اس یونٹ کے سربراہ کو تلاش کر کے مار دیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اب بھی میزائل حملے کر رہا ہے اور امریکی قونصل خانوں سمیت نرم اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایسے عناصر کو ڈھونڈ کر ختم کرے گا۔
اس دوران ایک امریکی جنرل نے بتایا کہ ایران کے میزائل حملوں میں 86 فیصد کمی آئی ہے اور ہزاروں ایرانی میزائل اور ڈرونز مار گرائے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں مارے جانے والے افراد کی تعداد 1045 ہوگئی ہے۔