
سینیٹ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے ایران پر حملے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کوعالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے فوری طور پر ایران، خطے کے ممالک اورعالمی قیادت سے رابطے کیے، مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرانے کی کوشش کی اور 35 ہزار پاکستانیوں کے انخلا کے لیے ہنگامی اقدامات کر دیے گئے ہیں۔
منگل کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فضائی حدود کی بندش سے متعلق کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کی فضائی حدود بند ہیں، کئی افراد مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں، ایران میں 33 ہزار سے زائد پاکستانی موجود ہیں، زمینی راستے کھلے ہیں مگر سفر میں وقت لگتا ہے، ایران اور خلیجی ممالک کی صورت حال ابتر ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ثالثی کے لیے تیار تھے، وزارت خارجہ میں کرائسسز مینجمنٹ سیل 24 گھنٹے فعال ہے، کرائسسز مینجمنٹ سیل کے نمبر ایکس اکاؤنٹ پر موجود ہیں، تہران، زاہدان اور مشہد میں کرائسسز مینجمنٹ سیل فعال ہے، ابوظبی میں سفارت خانہ، دبئی اور جدہ میں قونصلیت فعال ہیں۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ ایران کے میزائل حملوں میں ابوظبی میں ایک پاکستانی شہری شہید ہوا، ایران سے 64 پاکستان آذربائیجان پہنچے ہیں، 300 ایرانی بھی پاکستان آئے ہیں جب کہ 792 پاکستان ایران سے واپس آچکے ہیں، عراق میں 40 ہزار پاکستانی ہیں اور بڑی تعداد میں زائرین ہیں، قطر میں ساڑھے 3 لاکھ پاکستانی ہیں، 1450 پاکستان قطر میں وزٹ ویزا پر موجود ہیں، کویت میں ایک لاکھ دو ہزار پاکستانی کام کررہے ہیں۔
ایران کی صورت حال پر بیان دیتے ہوئے نائب وزیراعظم کہا کہ جیسے ہی ایران پر حملے کی خبر موصول ہوئی، فوری طور پر وزارت خارجہ اور ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا۔ آیت اللہ علی خامنہ کی شہادت پر وزیراعظم کی جانب سے یکم مارچ کو باضابطہ تعزیتی بیان جاری کیا گیا جب کہ حکومتِ پاکستان اور پوری قوم نے افسوس اور مذمت کا اظہار کیا۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ گزشتہ سال 13 جون کو ایران پر حملہ ہوا تھا جو 12 دن بعد بند ہوا اور اُس وقت بھی پاکستان نے خطے کے تمام اہم ممالک سے رابطے کیے تھے، حالیہ کشیدگی کے دوران ترکی، مالدیپ، بنگلہ دیش، فلسطین، ازبکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، آذربائیجان اور یورپی یونین سمیت تیرہ رکن ممالک کی قیادت سے بات چیت کی گئی۔
وزیر خارجہ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ 12 جون کو میری اور فیلڈ مارشل کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی، جس میں مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا گیا۔ پاکستان بیک ڈور سفارتکاری کے ذریعے میڈی ایشن کر رہا تھا اور ایران کا ردعمل مثبت تھا مگر پیشرفت کے باوجود حملہ کر دیا گیا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور پاکستان نے جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کے ایرانی مؤقف کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا قتل عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس وقت پورا خطہ شدید خطرات کی زد میں ہے۔
اسحاق ڈار نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اس وقت 35 ہزار پاکستانی ایران میں موجود ہیں، کمرشل پروازیں معطل ہیں تاہم تفتان سمیت دیگر دو بارڈرز فعال ہے اور اب تک 792 پاکستانیوں کو مختلف سرحدی راستوں سے نکالا جا چکا ہے۔ ایمرجنسی لائنز اور ہیلپ لائنز 24 گھنٹے فعال ہیں جب کہ آذربائیجان بارڈر پر پاکستانیوں کو ویزا سہولت فراہم کر رہا ہے۔
نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ اپوزیشن اور حکومت کا اس معاملے پر مؤقف ایک ہے، تمام ممالک کے سفراء کو بریفنگ دی جا چکی ہے اور کل دونوں ایوانوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو اِن کیمرہ بریفنگ دی جائے گی۔ پاکستان شفافیت کے ساتھ کام کر رہا ہے اور اس نازک وقت میں قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔
اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان نے فوری مذمت کر کے واضح مؤقف اختیار کیا، خارجہ پالیسی جذبات نہیں بلکہ قومی مفاد اور دفاع کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہے اور اس وقت خطہ ایسی صورتحال سے گزر رہا ہے جسے بعض حلقے جنگ عظیم سوم سے تشبیہ دے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے ایران پر حملے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سینیٹ میں پیش رپورٹ کے مطابق مذاکرات کامیابی کے قریب تھے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ کسی ملک کی قیادت کو نشانہ بنانا جنگی جرم ہے اور خطے کے استحکام کے لیے ریجنل سیکیورٹی فریم ورک کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس کل تک ملتوی کر دیا گیا۔