
دہائیوں سے بلند و بالا عمارتیں، ٹیکس فری تنخواہیں اور کاروبار کرنے میں آسانی دبئی کی پہچان رہی ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک غیر تحریری وعدہ چھپا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں چاہے جو کچھ بھی ہو، دبئی کے حالات مختلف رہیں گے۔
یہ تاثر عام تھا کہ خطے کی جنگیں اور عدم استحکام دبئی کی سرحدوں پر آکر رک جاتے ہیں، مگر گزشتہ ہفتے ہونے والے ایرانی حملوں نے اس سوچ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
ایران کے جوابی حملوں نے دبئی کے اہم ایئرپورٹس، ہوٹلوں اور بندرگاہوں کو نشانہ بنایا ہے، ان حملوں نے اس شہر کی نفسیاتی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس نے چالیس سال خود کو دنیا کا محفوظ ترین کاروباری مرکز ثابت کرنے میں لگائے تھے۔
متحدہ عرب امارات کے حکام نے صورتحال کو قابو میں رکھنے اور نقصانات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں۔
نیشنل ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ حالات کنٹرول میں ہیں، لیکن وہ سرمایہ کار اور رہائشی جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے میزائل گرتے دیکھے اور اپنی ضرورت کا سامان ذخیرہ کرنا شروع کر دیا، ان کے لیے صرف یقین دہانیاں شاید کافی نہ ہوں۔
رائٹرز کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ دبئی کے معاشی ماڈل کے لیے یہ ایک بڑا خطرہ ہے کیونکہ بین الاقوامی سرمایہ ایسی جگہوں سے بہت جلد نکل جاتا ہے جہاں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو۔
دبئی کے اسٹاک ایکسچینج پیر اور منگل کو بند رہے اور ایمازون کی کلاؤڈ سروسز متاثر ہونے کی وجہ سے بینکنگ کے نظام میں بھی خرابیاں پیدا ہوئیں۔
واضح رہے کہ دبئی کی معیشت اب تیل پر منحصر نہیں رہی، بلکہ اس کا 98 فیصد سے زیادہ حصہ سیاحت، تجارت اور رئیل اسٹیٹ سے آتا ہے۔
ماضی میں جب بھی خطے کے کسی ملک جیسے شام یا لبنان میں حالات خراب ہوئے، وہاں کا پیسہ اور باصلاحیت افراد دبئی آگئے، جس کی وجہ سے یہاں کی آبادی 1980 میں دس لاکھ سے بڑھ کر اب گیارہ کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔
گزشتہ سال دبئی دنیا بھر میں کروڑ پتی افراد کی ہجرت کے لیے سب سے پسندیدہ جگہ رہی۔ لیکن حالیہ حملوں نے اس کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے کہ ایران جیسا طاقتور پڑوسی دبئی کے تجارتی راستوں اور سمندری حدود کو کسی بھی وقت متاثر کر سکتا ہے۔
حالیہ حملوں میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور جبل علی پورٹ جیسی اہم جگہوں کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور اٹھاون زخمی ہوئے۔ لوگوں کو پہلی بار زیرِ زمین بنکروں میں پناہ لینا پڑی اور ایئرپورٹ کئی روز کے لیے بند کرنا پڑا۔
اس صورتحال نے بڑے سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے اور کچھ کمپنیوں نے تو ابھی سے اپنے ملازمین کی تعداد کم کرنے اور فنڈز اکٹھا کرنے کا عمل روک دیا ہے۔
سونے کی مانگ میں بھی اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ لوگ اب نقدی کے بجائے محفوظ اثاثوں کی طرف جا رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ طویل ہوئی تو دبئی کا مستقبل مشکل میں پڑ سکتا ہے کیونکہ یہاں کی پوری معیشت کا دارومدار اس کے ’محفوظ‘ ہونے کے تاثر پر تھا۔
اگرچہ ماضی میں دبئی نے کورونا جیسی آفات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، لیکن موجودہ جغرافیائی اور سیاسی تناؤ ایک مختلف نوعیت کا چیلنج ہے۔
اب سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ یہ جنگ کتنی جلدی ختم ہوتی ہے، ورنہ بین الاقوامی کمپنیاں دبئی کے متبادل کے طور پر کسی دوسری محفوظ جگہ کی تلاش شروع کر سکتی ہیں۔