
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں واقع امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے شدید احتجاج کے دوران فائرنگ یو ایس میرینز (امریکی فوجی اہلکاروں) نے کی تھی، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق ہوئے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، امریکی حکام نے پیر کے روز بتایا کہ اتوار کو مظاہرین نے قونصل خانے کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، اس دوران امریکی میرینز نے فائرنگ کی۔
یہ واقعہ امریکی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں شروع ہونے والے احتجاج کے دوران پیش آیا۔
امریکی حکام کے مطابق مظاہرین نے اتوار کے روز قونصل خانے کی بیرونی دیوار عبور کر لی تھی جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
حکام یہ نہیں بتا سکے کہ آیا قونصل خانے کی حفاظت پر مامور دیگر اہلکاروں، جیسے نجی سیکیورٹی گارڈز یا مقامی پولیس نے بھی فائرنگ کی یا نہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں میرینز نے براہ راست فائرنگ کی۔
صوبائی حکومت کے ترجمان سکھ دیو اسرداس ہیمنانی نے کہا کہ فائرنگ سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے کی گئی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا تعلق کس ادارے سے تھا۔
ایک مقامی پولیس افسر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ فائرنگ قونصل خانے کے اندر سے کی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق اس دوران فائرنگ کے ساتھ ساتھ آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے گئے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک شخص کو قونصل خانے کی سمت فائرنگ کرتے اور زخمی مظاہرین کو بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر ہونے والے حملوں کے بعد پاکستان میں احتجاج پھیل گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں پیر کے روز حکومت نے ملک بھر میں بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی تھی۔
رائٹرز کے مطابق مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں مجموعی طور پر 26 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
کراچی میں امریکی قونصل خانے کی جانب جانے والی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
اسی طرح اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور لاہور میں امریکی مشن کے اطراف بھی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔