
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکا نے 28 فروری کو رات 9 بج کر 45 منٹ پر ایران پر حملہ کیا۔ اس کارروائی میں اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر آپریشن کیا گیا اور مختلف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ملٹری اہداف مکمل طور پر حاصل کرنے میں وقت لگے گا اور یہ کوئی آسان مرحلہ نہیں ہے، اس لیے مزید اموات کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔
وزیر دفاع کے مطابق اس آپریشن میں امریکی فوج کی تمام شاخوں نے حصہ لیا، جن میں آرمی، نیوی، مرین کور، ائیرفورس، اسپیس فورس، کوسٹ گارڈز اور ریزرو کمپوننٹس شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے کا مقصد ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں سمندر اور زمین سے تقریباً 100 طیاروں نے کارروائی کی۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار اہداف پر حملے کیے گئے جبکہ اب تک آپریشن کو 57 گھنٹے ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام، بنیادی ڈھانچے، بیلسٹک میزائل سائٹس اور انٹیلی جنس انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب پینٹاگون نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی قیادت نے بم اور میزائل بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہوتا تو اسے زیر زمین تنصیبات بنانے کی ضرورت نہ ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو بارہا معاہدے کی پیشکش کی گئی لیکن اس نے قبول نہیں کیا، اور خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ اسی نوعیت کی سرگرمیاں شروع کیں تو مزید حملے کیے جائیں گے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کی بحریہ اور اہم انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کبھی بھی جوہری بم بنانے کے قابل نہ ہو۔
امریکی حکام نے کہا کہ اس جنگ کے اصول امریکا طے کرے گا اور اس کے آغاز سے لے کر اختتام تک فیصلے بھی وہی کرے گا۔ ان کے مطابق امن طاقت کے ذریعے قائم کیا جا سکتا ہے۔