اسرائیل کی بیروت میں بمباری، درجنوں افراد ہلاک، لبنان میں حزب اللہ پر پابندی عائد

مشرق وسطیٰ کی جاری کشیدگی میں پیر کے روز ایک نیا محاذ اس وقت کھلا جب حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے ردعمل میں اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرون داغے۔ یہ حملے اسرائیل کے شمالی علاقوں کی طرف کیے گئے، جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں وسیع فضائی کارروائیاں شروع کر دیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کو نشانہ بنایا جہاں حزب اللہ کا اثر و رسوخ ہے اور کئی اہم جنگجوؤں کو ہدف بنایا گیا۔

لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’این این اے‘ کے مطابق ابتدائی اعداد و شمار میں کم از کم 31 افراد جاں بحق اور 149 زخمی ہوئے ہیں۔ لبنان کی وزارت صحت نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیل نے حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کو ”نیا ہدف“ قرار دیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال لبنان میں زمینی کارروائی پر غور نہیں کیا جا رہا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بیروت میں رات گئے حملے میں حزب اللہ کے انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کے سربراہ حسین مقلد کو ہلاک کیا، تاہم اس بارے میں حزب اللہ کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے 18 قصبوں اور دیہات کے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔

فوج کا دعویٰ ہے کہ ان علاقوں کو حزب اللہ عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

جن علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں دیر الزہرانی، السلطانیہ، طول، حابوش، ساحلی شہر صور، دیر قنون النہر اور بقاع وادی کا قصبہ مشغرا شامل ہیں۔ انخلا کے احکامات کے بعد کئی خاندان محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کی عسکری سرگرمیاں غیر قانونی ہیں اور گروپ کو اپنے ہتھیار ریاستی اداروں کے حوالے کرنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کی سرزمین سے ریاستی فریم ورک سے باہر کسی بھی فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

لبنانی وزیراعظم نے 2024 میں اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی پر عملدرآمد اور مذاکرات کی بحالی کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles