
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی لیڈرشپ امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ ایران کی نئی قیادت ان سے بات چیت کرنا چاہتی ہے جس پر انہوں نے آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
یہ بات انہوں نے امریکی جریدے دی اٹلانٹک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔
فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ سے انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ بات کرنا چاہتے ہیں اور میں نے بات کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، لہٰذا میں ان سے بات کروں گا۔ انہیں یہ پہلے کر لینا چاہیے تھا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں وہ چیز پہلے دے دینی چاہیے تھی جو نہایت عملی اور آسان تھی۔ انہوں نے بہت زیادہ انتظار کیا مگر وہ زیادہ ہوشیاری دکھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ایران کی کس شخصیت سے بات کریں گے اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ گفتگو اتوار کو ہوگی یا پیر کے روز ہوگی۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے مزید کہا کہ حالیہ عرصے میں امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شامل بعض افراد اب زندہ نہیں رہے۔ ان کے بقول زیادہ تر لوگ اب نہیں رہے کیونکہ یہ ایک بڑا حملہ تھا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایک قیادتی کونسل، جس میں وہ خود عدلیہ کے سربراہ اور طاقتور گارجین کونسل کے ایک رکن شامل ہیں، نے آیت اللہ خامنہ ای کی وفات کے بعد عارضی طور پر سپریم لیڈر کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔