
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ پاکستان نے جمعے کی شب سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ کے جواب میں افغانستان میں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز 26 فروری کی شب ہوا جب افغان طالبان نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ اور حملے کیے۔
پاکستان نے اس کے جواب میں آپریشن ’غضب لِلحق‘ شروع کیا، جس کے تحت اب تک افغان طالبان کی 27 سرحدی چوکیاں مکمل تباہ اور کئی چوکیاں اور ساز و سامان قبضے میں لینے کی اطلاعات ہیں۔
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق آپریشن ’غضب لِلحق‘ میں افغان طالبان رجیم کے 274 اہلکار اور خوارج ہلاک جب کہ 400 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
انہوں نے آپریشن کے دوران 12 جوانوں کے جامِ شہادت نوش کرنے کی تصدیق کی اور مزید بتایا کہ افغان طالبان کی 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں، جب کہ 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کی جا چکی ہیں۔
پاکستان کی جوابی کارروائیوں میں کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان طالبان کی متعدد عسکری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
افغان طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخونزادہ قندھار میں مقیم ہیں۔ اہم ترین فیصلے، تقرریاں اور عسکری حکمتِ عملی قندھار سے ہی طے پاتی ہیں۔ کابل سے حکومت کے انتظامی امور چلائے جاتے ہیں مگر طاقت کا اصل مرکز قندھار ہے۔
کابل حکومت قندھار سے آنے والے احکامات پر ہی عمل درآمد کرتی ہے البتہ کابل افغانستان کا باضابطہ دارالحکومت ہے۔ تمام وزارتیں، سرکاری دفاتر اور غیر ملکی سفارت خانے یہیں واقع ہیں۔
پاکستان نے حالیہ فضائی حملوں کابل اور قندھار میں کئی اہم اہداف کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں افغان طالبان کی کارروائیوں کو ’کھلی جنگ‘ قرار دیا اور کہا ہے کہ پاکستان کا صبر ختم ہو چکا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان اس سے قبل اکتوبر 2025 میں شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئی تھیں جس کے بعد قطر، ترکیہ اور سعودی عرب کی ثالثی سے عارضی جنگ بندی عمل میں آئی تھی، جو اب ختم ہو چکی ہے۔
پاکستان اور افغانستان ہمسایہ ملک ہیں، جن کے درمیان 2 ہزار 640 کلومیٹر کی طویل سرحد ہے، جسے ’ڈیورنڈ لائن‘ کہا جاتا ہے۔
افغانستان کے صوبے ننگر ہار، کُنڑ، خوست، پکتیا اور پکتیکا کی سرحدیں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے ملتی ہیں جب کہ قندھار، زابل، ہلمند اور نمروز کی بلوچستان کے ساتھ طویل سرحد موجود ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان اس سرحد پر سرکاری طور پر تسلیم شدہ 5 مرکزی گزرگاہیں ہیں، جہاں اکتوبر 2025 تک تجارت اور لوگوں کی آمد و رفت جاری تھی۔ اس کے علاوہ کئی چھوٹی گزرگاہیں بھی مخصوص اوقات میں کھولی جاتی رہی ہیں۔
ان مرکزی سرحدی گزرگاہوں میں سے ایک بلوچستان جب کہ 4 خیبر پختونخوا میں واقع ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان پشاور کے قریب طورخم مصروف ترین تجارتی اور عوامی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ جس کے بعد بلوچستان کے علاقے چمن میں دوسری بڑی تجارتی گزرگاہ موجود ہے۔
شمالی وزیرستان میں ’غلام خان‘ نامی تیسری بڑی گزرگاہ سی پیک کے تناظر میں اہم تجارتی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں ’انگور اڈہ‘ اور ضلع کُرم میں ’خرلاچی‘ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کے لیے اہم گزرگاہیں رہی ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان تمام سرحدی راستے اکتوبر 2025 سے مکمل طور پر بند ہیں۔ جس کی وجہ اسی ماہ پاکستانی افواج اور افغان طالبان کے درمیان سرحد پر ہونے والی شدید جھڑپیں تھیں۔ ان جھڑپوں میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 23 پاکستانی فوجی شہید اور جوابی کارروائی میں افغان طالبان اور ان کے حمایت یافتہ 200 جنگجو مارے گئے تھے۔
اس واقعے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا جس کے بعد طورخم اور چمن سمیت تمام سرحدی گزرگاہیں کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دی گئی تھیں۔
اکتوبر کی جھڑپوں کے تین روز بعد دونوں ملکوں کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں عارضی سیزفائر برقرار رکھنے اور استنبول میں دوبارہ مذاکرات پر اتفاق کیا گیا تاکہ دیرپا امن و استحکام کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔
تاہم نومبر 2025 میں استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں فریق سرحد پار دہشت گردی روکنے کے طریقہ کار پر اتفاق نہ کرسکے اور مذاکرات بے نتیجہ ہی ختم ہوگئے۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد افغان طالبان نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کردیے۔ ایران، ترکیہ اور قطر سمیت دیگر ممالک کی مسلسل کوششوں کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ختم نہ ہوسکی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کا آغاز فروری 2026 کے آغاز میں پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے پے در پے واقعات کے بعد ہوا۔
پاکستان میں رواں ماہ اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں دہشت گردی کے بڑے واقعات سامنے آئے۔ جس میں افغانستان میں مقیم ’فتنہ الخوارج‘ (ٹی ٹی پی) کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان نے ان حملوں کے جواب میں 21 فروری کو افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر جوابی کارروائی کی جس میں فتنۃ الخوارج اور کالعدم ٹی ٹی پی کے مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پیر کو سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں افغانستان میں موجود دہشت گرد ملوث ہیں۔
ان کے بقول پاکستان نے دہشت گردی سے متعلق ٹھوس شواہد افغان حکام کے سامنے رکھے، اس کے باوجود کوئی مؤثر اور قابلِ عمل اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے اور دہشت گردوں کی دراندازی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کے مسئلے سے نبرد آزما ہے اور افغان طالبان کی موجودہ قیادت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ تاہم افغان طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔