
ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش کردی۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو باہمی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران دونوں ممالک کے درمیان ثالثی اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ رمضان ضبطِ نفس اور عالمِ اسلام میں یکجہتی کے فروغ کا مہینہ ہے، مناسب ہے کہ افغانستان اور پاکستان اختلافات کو حسنِ ہمسائیگی اور مکالمے سے حل کریں۔
دوسری جانب پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے بعد پاکستان کی مسلح افواج کا آپریشن ’غضب لِلحق‘ جاری ہے۔ پاک فوج نے افغانستان میں مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کی ہیں۔
حکومتی بیان کے مطابق ان کارروائیوں میں کم از کم 133 افغان طالبان جنگجو ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ پاک فوج کی جوابی کارروائیوں میں کابل، قندھار اور پکتیا میں موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔