ایران کا ایٹمی اور میزائل پروگرام: حقیقت کیا ہے اور امریکا کے لیے خطرہ کتنا بڑا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو خطے اور امریکا کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ان کے اس بیان کے بعد ایران کی عسکری اور جوہری صلاحیتوں سے متعلق کئی سوالات دوبارہ زیر بحث آ گئے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ایران ایسے میزائل تیار کر چکا ہے جو یورپ اور بیرون ملک امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور وہ ایسے میزائل بنانے پر کام کر رہا ہے جو مستقبل میں امریکا تک بھی پہنچ سکیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ سال جون میں ان کے حکم پر ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے نام سے ہونے والے امریکی فضائی حملے نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، لیکن اُن کے مطابق ایران دوبارہ وہی سرگرمیاں شروع کر رہا ہے۔

تاہم انہوں نے اپنے الزامات کے حق میں کوئی تفصیلی ثبوت پیش نہیں کیا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، امریکا کی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران کے پاس ایسے خلائی لانچ وہیکلز موجود ہیں جن کی بنیاد پر وہ اگر چاہے تو 2035 تک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار کر سکتا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا بھی یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ ملک ایسے میزائل پر کام کر رہا ہے جو امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران 2013 سے شمالی کوریا کے ساتھ ایک انجن کی مشترکہ تیاری میں شامل رہا ہے، جو پیانگ یانگ اپنے بین البراعظمی میزائلوں میں استعمال کر چکا ہے۔

اس پس منظر میں کچھ تجزیہ کار امریکی اندازوں کو محتاط قرار دیتے ہیں۔

جہاں تک ایران کے جوہری پروگرام کا تعلق ہے، گزشتہ سال جون میں امریکا نے ایران کی تین اہم تنصیبات پر حملے کیے تھے جہاں یورینیم افزودہ کیا جاتا تھا۔

یورینیم کو بجلی گھروں کے ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اگر اس کی خالصیت زیادہ ہو تو اسے جوہری ہتھیار میں بھی ڈھالا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر نے ان حملوں کے بعد کہا تھا کہ ایرانی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا تھا کہ ایران چند ماہ کے اندر محدود پیمانے پر دوبارہ افزودگی شروع کر سکتا ہے۔

آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی 13 اعلان شدہ جوہری تنصیبات کا معائنہ کیا ہے جو حملوں کا نشانہ نہیں بنیں، لیکن جن تین اہم مقامات پر حملہ ہوا، یعنی نطنز، فردو اور اصفہان، وہاں کا مکمل معائنہ ممکن نہیں ہو سکا۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے کتنا قریب ہے۔

آئی اے ای اے اور امریکی انٹیلی جنس اداروں کے مطابق ایران نے 2003 میں جوہری ہتھیار بنانے کا پروگرام روک دیا تھا۔

امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں بھی کہا گیا کہ ایران اس وقت جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے 2003 میں معطل کیے گئے پروگرام کی دوبارہ اجازت نہیں دی ہے۔

ایران خود ہمیشہ یہ کہتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہش مند نہیں اور بطور رکن معاہدہ عدم پھیلاؤ اس کے تحت اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

تاہم، مغربی ممالک کا موقف ہے کہ ایران نے جس سطح تک یورینیم افزودہ کیا ہے اس کی کوئی قابل قبول سول توجیہہ موجود نہیں اور آئی اے ای اے نے بھی اسے تشویش کا باعث قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے امریکی انٹیلی جنس کی اس تشخیص کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے بہت قریب ہے، تاہم انہوں نے اس دعوے کے لیے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔

مجموعی طور پر صورت حال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام سے متعلق بیانات، اندازے اور دعوے مختلف سطحوں پر متضاد ہیں۔

ایک طرف امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی سرگرمیوں کو خطرہ قرار دیتے ہیں، تو دوسری جانب ایران اپنے پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے جائز حق بتاتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles