
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا جائزہ مشن معاشی کارکردگی کا معائنہ کرنے کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے، جہاں مذاکرات کا پہلا مرحلہ کراچی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس دورے کے دوران مشن مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لے گا اور اسٹیٹ بینک کے حکام کے ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر، شرح سود اور بینکنگ کے قوانین پر تبادلہ خیال کرے گا۔
مشن کا یہ دورہ مجموعی طور پر آٹھ ارب ڈالر سے زائد کے قرض پروگراموں کا حصہ ہے، جس کے تحت پاکستان کو اب تک تین ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم موصول ہو چکی ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کی وصولی کے علاوہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے مقرر کردہ تقریباً تمام اہم اہداف مکمل کر لیے ہیں۔
تاہم ایف بی آر کو گزشتہ سات ماہ کے دوران ٹیکسوں کی مد میں 372 ارب روپے کی بڑی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بارے میں آئی ایم ایف کو آگاہ کیا جائے گا۔
پاکستانی حکام اس بات کی کوشش کریں گے کہ معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی ایم ایف سالانہ ٹیکس ہدف میں کچھ کمی کر دے۔
دوسری جانب معاشی استحکام کے حوالے سے حکام کا دعویٰ ہے کہ بڑے پیمانے کی صنعتوں میں ترقی دیکھی گئی ہے اور صوبوں نے بھی گیارہ سو اسی ارب روپے کا مالیاتی سرپلس فراہم کر کے معیشت کو سہارا دیا ہے۔
مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اسلام آباد میں ہوگا جہاں معاشی امور کے ساتھ ساتھ حکومتی اداروں میں بہتری، اینٹی کرپشن اقدامات اور سرکاری افسران کے اثاثوں کو ظاہر کرنے جیسے انتظامی معاملات پر بات ہوگی۔
آئی ایم ایف کا مشن گیارہ مارچ تک پاکستان میں قیام کرے گا اور اس دوران اگلے سال کے بجٹ کے بنیادی ڈھانچے پر بھی مشاورت کی جائے گی۔
حکومت کا موقف ہے کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود معاشی اصلاحات کا پروگرام درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور وہ مہنگائی میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔