
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اس وقت اپنے سنہری دور میں داخل ہو چکا ہے اور ملک پہلے سے زیادہ مضبوط، امیر اور کامیاب ہے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کو اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے آغاز میں نائب صدر، وزیرِ خارجہ اور خاتون اوّل سمیت تمام سرکاری شخصیات کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ پانچ ماہ قبل ہی امریکا نے اپنی آزادی کی 250ویں سالگرہ منائی اور آج ملک ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو انہیں بیمار معیشت اور کئی سنگین مسائل ورثے میں ملے، لیکن ایک سال کے اندر ان کی حکومت نے بے مثال اصلاحات کیں اور حالات بدل دیے۔
اُن کے مطابق بائیڈن دور میں مہنگائی بدترین سطح پر تھی، تاہم اب مہنگائی کم ہو کر 1.7 فیصد تک آ چکی ہے اور ملک برے وقت سے نکل آیا ہے۔
صدر نے کہا کہ اس وقت امریکی اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ پر ریکارڈ بنا رہی ہے اور گیس کی قیمتیں بیشتر ریاستوں میں 2.30 ڈالر فی گیلن سے کم ہو چکی ہیں جبکہ بعض مقامات پر یہ 1.99 ڈالر فی گیلن تک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی تیل کی پیداوار میں روزانہ چھ لاکھ بیرل سے زائد اضافہ ہوا ہے اور قدرتی گیس کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے ”ڈرل، بے بی، ڈرل“ کا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے وینزویلا سے 80 ملین سے زائد بیرل تیل حاصل کیا ہے، جو پہلے متوقع 50 ملین بیرل سے کہیں زیادہ ہے۔
ٹرمپ نے وینزویلا کو ایک نیا دوست اور شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب امریکا کو وینزویلا کے تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل ہوچکی ہے اور یہ تیل امریکی ریفائنریوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی طاقتور تیل کمپنیوں کی خواہش ہے کہ مستقبل میں 100 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے تاکہ وینزویلا کی توانائی صنعت کو دوبارہ مضبوط کیا جا سکے، اور منافع کو وینزویلا، امریکا اور کمپنیوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔
سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ آج امریکا کی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں اور گزشتہ نو ماہ کے دوران کوئی غیر قانونی تارکین وطن ملک میں داخل نہیں ہو سکا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ قانونی طور پر امریکا آتے ہیں، ہم ان سے محبت کرتے ہیں اور قانونی امیگریشن کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔
تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے بعض ممالک کے لیے عارضی تحفظ کی حیثیت ختم کر کے قانونی راستوں کو محدود کیا ہے۔
معاشی میدان میں صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے ایک سال کے دوران 18 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن ہوئی جبکہ بائیڈن کے دور میں صرف ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کانگریس سے ٹیکس کٹوتی کی اپیل کی گئی جسے ری پبلکن ارکان نے ممکن بنایا جبکہ ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی۔
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ٹپ اور اوورٹائم پر ٹیکس ختم کیا اور وہ ممالک جو امریکا سے فائدہ اٹھا رہے تھے، اب ادائیگیاں کر رہے ہیں۔
خطاب کے دوران صدر نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ”افسوسناک“ قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے عالمی ٹیرف نافذ کرتے ہوئے صدارتی اختیارات سے تجاوز کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان ٹیرف سے امریکا کو سیکڑوں ارب ڈالر حاصل ہوئے اور قومی سلامتی کے حوالے سے بھی فائدہ ہوا۔
تاہم انہوں نے اعلان کیا کہ اب وہ تجارتی قانون کی دفعہ 122 کے تحت 15 فیصد نئے عالمی ٹیرف نافذ کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیرف 150 دن تک نافذ رہ سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں توسیع دینے کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا ہر محاذ پر جیت رہا ہے، دشمن خوفزدہ ہیں اور ملک اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت نے ڈی ای آئی پالیسی ختم کر دی ہے۔
خطاب کے دوران انہوں نے آئس ہاکی ٹیم کی تعریف کی اور کہا کہ واشنگٹن ڈی سی کی طرح لاس اینجلس کو بھی محفوظ شہر بنایا جائے گا۔ انہوں نے فوج اور پولیس کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
صدر نے اپنے خطاب کا اختتام اس اعلان کے ساتھ کیا کہ امریکا واپس آ چکا ہے اور یہ تبدیلی تاریخ میں یاد رکھی جائے گی
۔ انہوں نے اسے ”صدیوں کی سب سے بڑی واپسی“ قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعی امریکا کا سنہری دور ہے۔