عشق کے جال نے کیسے میکسیکن ڈرگ لارڈ کی جان لی؟

میکسیکو میں منشیات کے طاقتور سرغنہ نیمیسیو اوسیگیرا سروانتیس المعروف ایل مینچو کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں تشدد کی لہر پھوٹ پڑی تھی، جس کے نتیجے میں کم از کم 62 افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام نے پیر کو آپریشن کی پہلی تفصیلات جاری کیں، جس کے بعد ملک کے بیشتر حصوں میں بدامنی پھیل گئی۔

میکسیکو حکام کے مطابق اوسیگیرا کی رومانوی وابستگیوں سے متعلق ایک خفیہ اطلاع نے سیکیورٹی اداروں کو ریاست جالسکو کے ایک چھوٹے قصبے میں واقع اس کے ٹھکانے تک پہنچنے میں مدد دی، جہاں اسے ہلاک کیا گیا۔

دفاعی وزیر ریکارڈو ٹریویلا نے بتایا کہ نیمیسیو اوسیگیرا کی ایک رومانوی ساتھی کے ایک قابل اعتبار شخص کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر اگلے ہی روز ان کے کمپاؤنڈ پر چھاپے کی منصوبہ بندی کی گئی۔

اتوار کی علی الصبح کارروائی میں کم از کم 62 افراد مارے گئے، جن میں 25 نیشنل گارڈ کے فوجی پولیس اہلکار اور 34 مشتبہ گینگ ارکان شامل تھے۔ کارروائی کے بعد کارٹیل کے وفاداروں نے 12 سے زائد ریاستوں میں 85 مقامات پر سڑکیں بند کرتے ہوئے گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی۔

۔

میکسیکو میں شدید ہنگامہ آرائی کے بعد صدر کلاڈیا شین بوم نے پیر کی صبح کہا تھا کہ صورتحال معمول پر آ رہی ہے اور سڑکوں پر قائم رکاوٹوں پر قابو پا لیا گیا ہے۔ تاہم جالیسکو میں جو اوسیگیرا کے بدنام زمانہ کارٹیل کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں دو ہزار اضافی فوجی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

اوسیگیرا کی موت اس مجرمانہ نیٹ ورک کے لیے بڑا دھچکا قرار دی گئی ہے، جو مختلف جرائم میں ملوث ایک منظم اور متنوع تنظیم تھی۔ وہ میکسیکو کا سب سے زیادہ مطلوب کارٹیل رہنما تھا اور امریکا نے اس کی گرفتاری پر 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر انعام مقرر کر رکھا تھا۔

۔

حکام کے مطابق امریکا نے میکسیکو کے قصبے تپالپا میں واقع کمپاؤنڈ کی درست نشاندہی کے لیے انٹیلی جنس معلومات فراہم کی تھیں، تاہم میکسیکو نے واضح کیا کہ آپریشن کی قیادت مقامی فورسز نے کی تھی۔ صدر شینبام نے کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں امریکی افواج کی کوئی شرکت نہیں تھی، صرف معلومات کا تبادلہ ہوا تھا۔

خیال رہے کہ اوسیگیرا میکسیکو مغربی ریاست جالیسکو کے جنگلاتی علاقے میں میکسیکن اسپیشل فورسز کی کارروائی کے دوران زخمی ہوگیا تھا اور بعد ازاں اُسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے میکسیکو سٹی منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں دم توڑ گیا۔ اس کے دو محافظ بھی زخمی ہوئے تھے جو کہ بعد میں ہلاک ہوگئے۔

دوسری جانب امریکی فوج کی قیادت میں قائم ایک نئے انٹیلی جنس ٹاسک فورس نے میکسیکو میں اتوار کو ہونے والی اس فوجی کارروائی میں کردار ادا کرنے کا دعویٰ کیا جس میں ایل مینچو ہلاک ہوا۔ ایک امریکی دفاعی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ ٹاسک فورس میکسیکو کی کارروائی میں معلوماتی معاونت فراہم کر رہی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق جوائنٹ انٹرایجنسی ٹاسک فورس-کاؤنٹر کارٹیل کا باقاعدہ آغاز گزشتہ ماہ کیا گیا تھا۔ اس میں امریکی حکومت کے متعدد ادارے شامل ہیں اور اس کا مقصد امریکا اور میکسیکو کی سرحد کے دونوں اطراف منشیات کارٹیل ارکان کے نیٹ ورکس کی نقشہ سازی اور انٹیلی جنس اکٹھا کرنا ہے۔

رائٹرز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے امریکی دفاعی اہلکار نے اس بات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ اس ٹاسک فورس نے میکسیکو کو کس نوعیت کی معلومات فراہم کیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ خود چھاپہ مکمل طور پر میکسیکن فوج کی کارروائی تھا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles