
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری جج برطرفی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، 116 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس اعظم خان نے تحریر کیا ہے۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ عدلیہ کی آزادی کا مطلب احتساب سے بالاتر اور مقدس ہونا نہیں، اہلیت اور قابلیت میں نقص یا دھوکا دہی پر جج منصب پر رہنے کا حقدار نہیں ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ایسے شخص کو قانوناً فوری طور پر عہدے سے الگ کیا جانا چاہیے، ایسی برطرفی عدلیہ کی آزادی برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے، احتساب اداروں کو کمزور نہیں مضبوط کرتا ہے، آزاد،اہل اور قابل اعتماد عدلیہ کے بغیر انصاف تک رسائی کا حق محض سراب ہے، عدالتیں ججز کی سہولت کے لیے نہیں، معاشرے کے فائدے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ غیر قانونی منصب کی بنیاد پر پورا عدالتی ڈھانچہ کمزور ہو جاتا ہے، عدالتی ڈھانچہ کمزور ہو تو سائلین کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، ججز کی شفاف طریقے سے تقرری بنیادی حق انصاف کے تحفظ کا لازمی جزوہے، عدلیہ میں آئینی معیارات کے نفاذ سے عدالتیں اپنی آزادی کا تحفظ کرتی ہیں، انتظامی منظوری یا بعد کی توثیق بنیادی اہلیت کا متبادل نہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وکیل کا لائسنس بنیادی تعلیم نقص دور نہیں کر سکتا، درست اور قانونی ایل ایل بی ڈگری نہ ہو تو تقرری ابتدا سے باطل ہوگی، غلط تقرری کو بعد کی انتظامی کارروائیوں سے درست نہیں کیا جاسکتا، عوامی عہدہ صرف قانونی اہلیت رکھنے والا شخص ہی سنبھال سکتا ہے، طارق جہانگیری کی بطورجج تقرری کالعدم قراردی جاتی ہے۔