ڈرگ لارڈ کی ہلاکت کے بعد پورا میکسیکو آگ کی لپیٹ میں

میکسیکو میں منشیات فروش کنگ بننے والے ایل مینچو کی ہلاکت کے بعد پورا ملک آگ کی لپیٹ میں آگیا۔

رپورٹ کے مطابق میکسیکو کی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ اس نے ملک کے سب سے خطرناک منشیات فروشوں میں سے ایک ایل مینچو اوسیگیرا کو ایک آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا۔ ایل مینچو کی ہلاکت کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں ہنگامے اور پرتشدد حالات پیدا ہو گئے۔

پر تشدد حالات کے باعث امریکی اور کینیڈین ایئر لائنز نے میکسیکو کے لیے درجنوں پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

میکسیکن فوج کے بیان کے مطابق 59 سالہ اوسیگیرا جو جالیسکو نیو جنریشن کارٹیل کا سربراہ تھا، شہر تپالپا میں فوجی کارروائی کے دوران شدید زخمی ہوا اور میکسیکو سٹی اسپتال منتقل کرتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ اس کے سر پر 15 ملین امریکی ڈالر کا انعام بھی مقرر تھا۔

اس آپریشن کے جواب میں کارٹیل کے مسلح افراد نے میکسیکو کی ریاست جالیسکو کے مغربی علاقوں میں بیس سے زائد سڑکیں بند کر دیں اور گاڑیاں اور ٹرک جلا دیے۔ پرتشدد واقعات دیگر ریاستوں تک بھی پھیل گئے۔

اطلاعات کے مطابق جلتی گاڑیوں کے ذریعے شاہراہیں بند کی گئیں اور نصف درجن سے زائد ریاستوں میں کاروباری مراکز کو نذرِ آتش کیا گیا، جس کے باعث ملک کے کئی حصے عارضی طور پر مفلوج ہو گئے۔ تاہم کسی شہری ہلاکت کی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی۔

میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے ایسی صورتحل میں شہریوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ مرکزی حکومت ریاستی حکام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کام کر رہی ہے۔

ایل مینچو کی ہلاکت میکسیکو میں سب سے بڑے منشیات فروشوں میں سے ایک کی تباہی کے مترادف ہے، جس کا موازنہ سِنالوا کارٹیل کے بانیوں، جوآقین ایل چاپو گوزمان اور اسماعیل زامبادا کی گرفتاری سے کیا جا سکتا ہے۔ دونوں اب امریکا میں قید ہیں۔

اتوار کے بیان میں کہا گیا تھا کہ میکسیکو کی فوجی انٹیلی جنس کے علاوہ یہ آپریشن امریکی حکام کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

بیان کے مطابق، اوسیگیرا کے علاوہ چھ مشتبہ کارٹیل مسلح افراد بھی ہلاک ہوئے اور تین فوجی زخمی ہوئے۔ دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جن سے مختلف ہتھیار بھی ضبط کیے گئے، جن میں راکٹ لانچر بھی شامل تھے جو ہوائی جہاز گرانے اور آرمرڈ گاڑیاں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ریاست کی دارالحکومت گواڈالاجارا کی سڑکیں تقریباً خالی تھیں جبکہ دکانیں، فارمیسیاں اور پیٹرول اسٹیشنز بند ہو گئے۔ ایک پیٹرول اسٹیشن کی ملازم ماریا میدینہ نے بتایا کہ مسلح افراد آئے اور سب کو باہر نکلنے کا حکم دیا۔ مجھے لگا کہ وہ ہمیں اغوا کر لیں گے، لیکن میں ایک ٹیکو اسٹینڈ میں چھپ گئی۔

پر تشدد صورتحال نے پڑوسی ریاست میچوآکان اور سیاحتی شہر پورٹو والیارتا تک بھی رخ کیا، جہاں اوسیگیرا کا کارٹیل فعال تھا۔

ایل مینچو کا کارٹیل 2009 میں قائم ہوا تھا اور امریکی محکمہ انصاف کے مطابق یہ میکسیکو کے سب سے پرتشدد منشیات کے گروہوں میں شامل ہے۔ امریکا نے جالیسکو کارٹیل کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ یہ کوکین، ہیروئن، میتھامفیٹامین اور فینٹانائل امریکا بھیجتا رہا ہے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاو نے اس آپریشن کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایل مینچو کو سب سے زیادہ خونریز اور بے رحم منشیات کا بادشاہ“ قرار دیا اور کہا، “یہ میکسیکو، امریکا، لاطینی امریکا اور دنیا کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔

یہ آپریشن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے دوران ہوا، جو میکسیکو سے منشیات، خاص طور پر فینٹانائل، کی ترسیل روکنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے بارہا دھمکی دی تھی کہ اگر شینبام نے منشیات کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے تو اُن کی برآمدات پر ٹیرفز لگائے جائیں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles