
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور اب ماہرین ان ممکنہ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران پر حملے کا فیصلہ کب کر سکتے ہیں۔
اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ نے تجزیہ نگاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی سفارتی معاہدہ طے نہیں پاتا تو حملے کے حوالے سے چار مختلف صورتیں سامنے آ سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، پہلا امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملہ رواں ہفتے پیر سے جمعرات کے درمیان کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔
یہ اس صورت میں ممکن ہے جب صدر ٹرمپ پہلے ہی فوجی کارروائی کا ذہن بنا چکے ہوں اور صرف مخصوص عسکری اہداف کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہوں۔
تاہم اس کا انحصار جمعرات کو ہونے والی امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی میٹنگ پر بھی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے کوئی ایسی پیشکش سامنے آئی جسے صدر ٹرمپ نے فوراً مسترد کر دیا تو کارروائی جلد ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، دوسرا اور سب سے مضبوط امکان یہ ہے کہ حملہ اگلے ہفتے کے آغاز یا وسط میں ہو۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں ایران کو دو ہفتوں کی مہلت دی تھی، اگر وہ اس ڈیڈ لائن کو پورا کرتے ہیں اور جمعرات کی ملاقات میں ہونے والی پیشکش کو ناکافی سمجھتے ہیں، تو اگلے ہفتے کارروائی کا بڑا امکان ہے۔
تیسرا آپشن رمضان المبارک کے خاتمے یعنی 19 مارچ کے بعد کا ہے۔
اسرائیلی ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ مقدس مہینے میں جنگ شروع کر کے اپنے مسلمان اتحادیوں کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہیں گے، کیونکہ اس سے خطے کے دیگر ممالک کی دفاعی تیاریوں پر اثر پڑ سکتا ہے اور ایران کو اپنے حق میں عوامی ہمدردی حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
تاہم اس طویل انتظار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ بھاری اخراجات ہیں جو مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی بحری بیڑوں اور ہزاروں فوجیوں کو الرٹ رکھنے پر آ رہے ہیں۔
چوتھا اور سب سے کمزور امکان یہ ہے کہ حملہ مستقبل بعید تک ٹل جائے، لیکن ماہرین اسے اس لیے مشکل سمجھتے ہیں کیونکہ امریکا اربوں ڈالر خرچ کر کے اپنے جنگی جہازوں کو زیادہ دیر تک بغیر کسی نتیجے کے وہاں نہیں رکھ سکتا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پوری صورتحال میں اسرائیل کا کردار بھی انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ پہلے یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ ایران صرف امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، لیکن اب اسرائیلی قیادت کے بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی اس کارروائی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
صدر ٹرمپ اس وقت اپنی صدارت کے سب سے بڑے فیصلے کے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ایک طرف جنگ کا دباؤ ہے اور دوسری طرف کمزور معاہدے کا خوف، اور وہ فی الحال کسی واضح حل کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔