
سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سندھ کی وحدت، تاریخی حیثیت اور جغرافیائی سالمیت سے متعلق ایک قرارداد پیش کی جس پر ایوان میں تفصیلی بحث ہوئی۔ قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سندھ محض ایک انتظامی اکائی نہیں بلکہ دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں سے ایک ہے، جس کی جڑیں وادی سندھ کی تہذیب اور موئن جو دڑو سے جڑی ہیں۔
قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ کی شناخت، زبان اور ثقافتی تسلسل جدید سیاسی سرحدوں سے بھی قدیم ہے۔ اس میں تاریخی حوالہ دیتے ہوئے 1936 میں سندھ کی بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی، 3 مارچ 1943 کو سندھ اسمبلی کی جانب سے قرارداد پاکستان کی منظوری اور پاکستان کے قیام میں سندھ کے کردار کا ذکر کیا گیا۔
قرارداد کے مطابق سندھ کو پاکستان فیڈریشن میں ایک تاریخی اور جداگانہ اکائی کے طور پر شامل کیا گیا اور آئین کے آرٹیکل 239 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔
قرارداد میں مؤقف اپنایا گیا کہ سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی کوئی بھی کوشش تاریخ، آئین اور جمہوری اقدار کے منافی ہوگی اور اس کی دوٹوک مذمت کی جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو توڑنے یا کراچی کو الگ کرنے کے بیانات کی وہ مخالفت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ وہ صوبہ ہے جس نے پاکستان کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا اور آج بھی وفاق کی مضبوطی میں اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد کا مقصد کسی فرد یا جماعت پر حملہ نہیں بلکہ سندھ کی وحدت کا تحفظ ہے۔
ایوان میں مختلف جماعتوں کے اراکین نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ بعض اراکین نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے اور صوبے کی وحدت برقرار رہنی چاہیے۔
بعض ارکان نے قرارداد پیش کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ شہر کے مسائل اور کارکردگی پر بھی بات ہونی چاہیے۔
قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ حصہ ہے اور رہے گا۔ اسے سندھ کی معاشی شہ رگ اور اتحاد کی علامت قرار دیا گیا۔
ایوان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ کی وحدت، جغرافیائی سالمیت اور آئینی حیثیت کے دفاع کے لیے آئینی اور جمہوری طریقوں سے کردار ادا کیا جائے گا اور تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ تقسیم پر مبنی بیانیے سے گریز کریں۔
بحث کے بعد ایوان میں قرارداد پر اتفاقِ رائے سے آگے بڑھنے کا عمل مکمل کیا گیا، جبکہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے مختلف نکات پر اپنی اپنی آرا بھی پیش کی گئیں۔