ایم کیو ایم ارکان میں دھمکیوں کے معاملے پر قیادت کا سخت ردِ عمل، علی خورشیدی کی طلبی


سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ارکان کے درمیان ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی پارٹی چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو بریف کریں گے۔ علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ رانا شوکت اور شارق جمال کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی ختم ہوگئی ہے، جب کہ رانا شوکت کل ایوان میں اپنا مؤقف پیش کریں گے۔
صحافیوں کے سوال پر کہ کیا انجینئر عثمان ایوان میں معافی مانگیں گے، علی خورشیدی نے جواب دیا کہ وہ فی الحال اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ پارٹی قیادت کی جانب سے تاحال ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
خیال رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا اندرونی جھگڑا آج سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کھل کر سامنے آگیا جہاں ارکان آپس میں الجھ پڑے۔
معاملہ اس وقت شدت اختیار کرگیا جب حیدرآباد سے ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی رانا شوکت نے ایوان میں انکشاف کیا کہ انہیں اسمبلی کے باہر پی ایس پی گروپ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اقبال محسود اور رکن صوبائی اسمبلی شارق جمال کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔
رانا شوکت نے کہا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری اسپیکر پر ہوگی۔ ان کے بیان کے دوران ایوان میں شور شرابا شروع ہوگیا۔

اسمبلی میں وزیر پارلیمانی امور اور وزیر داخلہ ضیاء لنجار تقریر کرنے کھڑے ہوئے تھے کہ ایم کیوایم مصطفی کمال گروپ کے رکن انجینئرعثمان نے رانا شوکت اور دیگر کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔
دھمکیوں پر اسپیکر سمیت ضیاء لنجار اور شرجیل میمن نے سخت ردعمل دیا، اسپیکر نے سیکرٹری کو کہہ کر پولیس بھی بلوالی۔انجینئر عثمان نے اسی پر بس نہ کیا اور فون پر کسی کو اپوزیشن لیڈر کی پٹائی کرنے کی دھمکی دی، جس کی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی۔
اسمبلی میں جب ایم کیو ایم دست و گریباں ہوئی تو اپوزیشن لیڈرعلی خورشیدی بے بس نظرآئے۔ اسپیکر انھیں مخاطب کرتے رہے اور کہا کہ کیا کرنا ہے جس پر علی خورشیدی نے جواب دیا کہ آپ بزنس چلائیں۔
بعد ازاں اسپیکر سندھ اسمبلی نے ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی انجینئر عثمان کی رکنیت معطل کر دی اور اجلاس کل تک ملتوی کر دیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles