
بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے متعلق علماء اور مشائخ کا کہنا ہے کہ صوبے میں بدامنی محض مقامی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سیاسی، معاشی اور بیرونی عوامل کارفرما ہیں۔
بلوچستان میں 31 جنوری کو پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں علماء اور مشائخ کی جانب سے کوئٹہ میں کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں امن، مصالحت اور قومی یکجہتی پر زور دیا گیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحق حقانی نے کہا کہ 31 جنوری کو پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات سنگین قومی المیہ ہیں اور انہیں وقتی ردعمل یا محض مقامی مسئلہ سمجھنا حقیقت سے انحراف ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعات صرف عوامی محرومیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی منظم سازش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے پیچیدہ سیاسی، معاشی اور غیر ملکی عوامل کارفرما ہیں، جن میں غیر اسلامی اور پاکستان دشمن عناصر بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد بلوچستان کے حالات شدید خراب ہوئے، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
مولانا عبدالحق حقانی کا کہنا تھا کہ قرآن و سنت ہمیں غیر جانبدار رہ کر تیسرے فریق کی حیثیت سے صلح کرانے کا کردار ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ انصاف، مکالمے، ثالثی اور اسلامی اصولوں کے مطابق مصالحت میں مضمر ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر علماء اور مشائخ نے مسائل کے پائیدار حل کے لیے چند اہم تجاویز پیش کیں اور بتایا کہ بلوچستان میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد و مقامی آبادی کو وسائل میں ان کا جائز حق دینا سمیت تعلیم اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ضروری قرار دیا گیا۔
کانفرنس کے شرکاء نے تجاویز پیش کیں کہ سرحدی تجارت کے منظم اور قانونی راستوں کا قیام، منشیات اور ٹرالر مافیا کا خاتمہ، جبری گمشدگیوں کے مسئلے کا حل اور علماء اور معتبر شخصیات پر مشتمل مصالحتی کونسلوں کا قیام انتہائی ضروری ہے۔
علماء نے حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں قیام امن کے لیے سنجیدہ، مربوط اور فوری اقدامات کریں تاکہ صوبہ ایک بار پھر استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔