
سپریم کورٹ نے ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روک دیا۔
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حکم امتناع جاری کیا، سپریم کورٹ نے شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، عدالت نے کہا کہ کیس کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا۔
دورانِ سماعت جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ اس مقدمے میں ان کا اختلافی نوٹ موجود ہے جبکہ دو ججز نے حقِ دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو ٹانگ میں گولی لگی تھی اور زخمی ہونے کی وجہ سے وہ ٹرائل کورٹ میں پیش نہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود ٹرائل کورٹ نے عدم پیروی کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع ختم کردیا۔
جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ جب ٹرائل کورٹ نے دو مختلف تاریخوں پر بانی پی ٹی آئی کے زخمی ہونے کو تسلیم کیا تھا تو پھر ایسے حالات میں حقِ دفاع کیسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر سوالات اٹھاتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر حکمِ امتناع جاری کردیا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ 2017 میں شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے دفاع کا حق ختم کردیا تھا، ٹرائل کورٹ میں کیس شہادتوں پر پہنچا ہوا ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاناما کیس پر خاموشی کے لیے انہیں شہباز شریف کی جانب سے 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ہتک عزت کا دعویٰ کیا تھا۔
لاہور کی سیشن کورٹ میں کیس کا ٹرائل جاری ہے، ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے جواب جمع کرانے میں تاخیر پر ان کا حقِ دفاع ختم کر دیا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا، لاہور ہائیکورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جواب دینے میں غیر ضروری تاخیر کی۔
مئی 2025 میں ٹرائل کورٹ کے سامنے شہباز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا، گواہ عطا تارڑ اور ملک احمد خان پر بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے جرح مکمل ہوچکی ہے۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حق دفاع ختم کرنے کیخلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست خارج کردی تھی، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان نے بانی پی ٹی آئی کی اپیل خارج اور حقِ دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
اکثریت فیصلے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا رویہ دانستہ نافرمانی والا رہا اور عدالتی عمل میں تاخیر کی، جسٹس عائشہ ملک نے فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھا تھا، جسٹس عائشہ ملک کا موقف تھا کہ کسی بھی فریق کا حقِ دفاع ختم نہیں کیا جانا چاہیے، جسٹس عائشہ ملک کے اختلافی نوٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو دفاع کا موقع ملنا چاہیے تھا۔