ایپسٹین اسکینڈل: برطانیہ کے بادشاہ چارلس کے بھائی اینڈریو گرفتاری کے بعد رہا

برطانیہ کے بادشاہ چارلس کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونزر کو پولیس کی تحویل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ اینڈریو کو یہ گرفتاری اس شبہے کے تحت کی گئی کہ انہوں نے خفیہ سرکاری دستاویزات سابق مجرم جنسیات جیفری ایپسٹین کو فراہم کیں۔

66 سالہ سابق شہزادے کو تھیمز ویلی پولیس نے پورے دن پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا۔ رائٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق اینڈریو کو پولیس اسٹیشن سے گاڑی میں باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا، جہاں وہ پچھلی نشست پر بیٹھے نظر آئے اور پریشان لگ رہے تھے۔

تھیمز ویلی پولیس نے بتایا کہ ”گرفتار فرد کو تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا ہے“۔ پولیس نے واضح کیا کہ گرفتاری کا مطلب جرم کا مرتکب ہونا نہیں بلکہ صرف شبہ کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا آغاز ہے۔ اس جرم کی سزا عمر قید تک ہو سکتی ہے اور یہ کیس کراؤن کورٹ میں سنا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ کارروائی اُن الزامات کی بنیاد پر کی گئی کہ انہوں نے بطور برطانوی تجارتی نمائندہ حساس معلومات جیفری ایپسٹین کے ساتھ شیئر کی تھیں، جیسا کہ بی بی سی نے رپورٹ کیا۔

گرفتاری سے قبل بکنگھم پیلس کو مطلع نہیں کیا گیا تھا۔ بادشاہ چارلس نے ایک بیان میں کہا، ”قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور ہمارا خاندان مکمل تعاون کرے گا۔“

اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونزر نے ہمیشہ ایپسٹین کے ساتھ اپنی دوستی پر ندامت ظاہر کی ہے اور کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق 2010 میں انہوں نے سرکاری دوروں کے دوران ویتنام، سنگاپور اور دیگر ممالک کے متعلق رپورٹس ایپسٹین کو بھیجیں، جبکہ وہ برطانیہ کے تجارتی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ 2011 میں یہ عہدہ چھوڑنا پڑا اور 2025 میں بادشاہ چارلس نے ان کے شاہی اعزازات واپس لے لیے۔

گرفتاری کے دن، وڈ فارم، سینڈرنگھم اسٹیشن، اور ونڈسر میں ان کے سابق رہائش گاہ پر پولیس کی چھاپے کے مناظر بھی دیکھے گئے۔

یہ تفتیش سابق الزامات سے الگ ہے، جیسے 2022 میں ورجینیا جیوفری کی جانب سے دائر سول کیس جس میں اینڈریو پر کم عمر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام تھا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles