
ایران نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو آگاہ کیا ہے کہ اگر اسے کسی قسم کی فوجی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو خطے میں موجود مخالف قوت کے اڈوں، تنصیبات اور اثاثوں کو جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے مستقل مشن نے جمعرات کے روز اقوام متحدہ کو ارسال کردہ خط میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے حوالے سے بیان بازی حقیقی فوجی جارحیت کے خطرے کا اشارہ دیتی ہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر ایران پر فوجی جارحیت مسلط کی گئی تو وہ فیصلہ کن جواب دے گا۔
رپورٹ کے مطابق خط میں امریکی صدر کی سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکا کو ڈیگو گارشیا اور آر اے ایف فیئر فورڈ کے ایئر فیلڈز استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں تاکہ ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔
خیال رہے واشنگٹن میں غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ایران امن کے راستے پر آئے اور خطے میں استحکام کے لیے ایٹمی ہتھیار نہ رکھے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تقریباً 10 دن میں ایران کے بارے میں صورت حال معلوم ہو جائے گی اور امریکی حکومت کو ایران کے ساتھ کچھ ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے، ایران کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ امن کے راستے پر چلے اور معاہدہ کرے، ورنہ نتائج سنگین ہوں گے۔