ایپسٹین کو پینٹاگون کے قریب واقع حساس عمارت خریدنے کی پیشکش کا انکشاف

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ نئی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمسن لڑکیوں سے جنسی جرائم میں سزا یافتہ ارب پتی جیفری ایپسٹین کو 2016 میں امریکی وزارت دفاع (ڈوڈ) سے منسلک ایک بڑی عمارت میں حصہ خریدنے کی پیشکش کی گئی تھی۔

الجزیرہ نیوز کے مطابق یہ 84 ہزار 710 مربع میٹر کی عمارت آرلنگٹن، ورجینیا میں پینٹاگون سے تقریباً 1.6 کلومیٹر دور واقع ہے اور سرمایہ کار دستاویز میں اسے ”مشن کریٹیکل“ قرار دیا گیا تھا۔

دستاویزات کے مطابق 2016 میں ایپسٹین کو ورجینیا کے علاقے آرلنگٹن میں واقع ایک بڑی عمارت میں حصہ خریدنے کی پیشکش کی گئی۔ اس عمارت کی مجوزہ قیمت تقریباً 116 ملین ڈالرتجویز کی گئی تھی۔ اگر یہ معاہدہ مکمل ہو جاتا تو جیفری ایپسٹین مالک بن جاتا اور امریکی حکومت سے کرایہ وصول کرنے والا شریک مالک بن سکتا تھا۔ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ سودا مکمل ہوا۔

اسی طرح اسٹرن نے 2015 میں ایپسٹین کو ایک اور پیشکش بھی بھیجی جس میں رچمنڈ اور بالٹی مور میں واقع ایف بی آئی کے دو دفاتر اور کچھ عدالتوں میں سرمایہ کاری کا کہا گیا۔ ان جائیدادوں کو اسٹرن نے ”انتہائی منافع بخش اثاثے“ قرار دیا۔ اس منصوبے کے لیے پہلے 25 ملین ڈالر اور بعد میں مزید 80 ملین ڈالر سرمایہ کاری کرنا تھی، جبکہ ملکیت کی رجسٹریشن کیمن آئی لینڈ کی ایک آف شور کمپنی کے ذریعے ہونا تھی۔

جاری ہونے والی ای میلز میں ایک ایف بی آئی مخبر نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا ایجنٹ تھا۔

میمو میں کہا گیا کہ ایپسٹین کے اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود باراک سے قریبی تعلقات تھے اور اس نے ان کے زیر نگرانی ہی جاسوسی کی تربیت حاصل کی تھی۔

دستاویزات کے مطابق ایہود باراک 2013 سے 2017 کے درمیان 30 سے زائد مرتبہ ایپسٹین کے نیویارک کے گھر بھی گئے تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایپسٹین نے اسرائیلی اداروں اور تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کی تھی۔

یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین کو کمسن لڑکیوں کے ساتھ جنسی جرائم کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 2019 میں جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles