
بھارت میں جاری ’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ میں بدانتظامی کی شکایات کے باعد ایک اور تنازع سامنے آگیا ہے۔ ایونٹ میں شریک ایک نجی یونیورسٹی کی جانب سے چین میں تیار کردہ روبوٹ کو اپنی تخلیق قرار دینے کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پانچ روزہ ’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ جاری ہے، جسے ملک میں مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا ایونٹ قرار دیا جارہا ہے۔
ایونٹ کے دوران گلگوٹیاس یونیورسٹی کی جانب سے چینی کمپنی کے تیار کردہ روبوٹک کتے کو مقامی طلبہ کی ایجاد کے طور پر پیش کرنے کے معاملے پر شدید تنقید ہورہی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گلگوٹیاس یونیورسٹی کی جانب سے اے آئی سمٹ میں ایک روبوٹک کتا پیش کیا گیا جسے ’اوریئن‘ نام دیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں یونیورسٹی کی پروفیسر نیہا سنگھ نے دعویٰ کیا کہ یہ ڈیوائس گلگوٹیاس یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلینس میں تیار کی گئی ہے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے کچھ ہی دیر بعد سوشل میڈیا پر اس دعوے کی قلعی کھل گئی۔
سوشل میڈیا صارفین نے نشاندہی کی کہ جس روبوٹ کو بھارتی یونیورسٹی کی ایجاد بتایا جا رہا تھا وہ دراصل چین کی کمپنی کا تیار کردہ ماڈل ہے جسے چینی روبوٹکس کمپنی ’یونی ٹری روبوٹکس‘ نے تیار کیا ہے اور دنیا بھر میں تحقیق اور تعلیم کے شعبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اس واقعے کے بعد اس پورے ایونٹ پر سوالات اٹھنے لگے اور حکومت کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ معاملے نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب آئی ٹی کے وزیر اشونی ویشنو نے یہ ویڈیو اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی جسے بعد میں ہٹا دیا گیا۔
بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ اس واقعے نے عالمی سطح پر بھارت کا ’تماشہ‘ بنا دیا ہے۔
بعد ازاں یونیورسٹی اور پروفیسر نیہا سنگھ دونوں کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی کہ روبوٹ یونیورسٹی کی تخلیق نہیں تھا اور نہ ہی ادارے نے ایسا کوئی دعویٰ کیا تھا۔
متنازع ویڈیو وائرل ہونے کے چند گھنٹوں بعد روبوٹ کو اسٹال سے ہٹا دیا گیا اور بعد ازاں یونیورسٹی نے اپنا اسٹال بھی خالی کر دیا۔
واضح رہے کہ سمٹ سے جمعرات کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، گوگل کے سی ای او سندر پچائی، اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور انتھروپک کے ڈاریو امودی خطاب کریں گے۔