
آسٹریلیا میں پرو ہاکی لیگ کے دوسرے مرحلے کے چاروں میچز میں شکست کے بعد قومی ہاکی ٹیم وطن واپس پہنچ گئی۔
لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ٹیم کی آمد کے موقع پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا، جس پر کھلاڑیوں نے ناراضی کا اظہار کیا۔
قومی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹیم مینجمنٹ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ موجودہ انتظامیہ کے ساتھ ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنا ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دورۂ آسٹریلیا کے دوران کھلاڑیوں کو مناسب ہوٹل اور معیاری خوراک فراہم نہیں کی گئی، جبکہ بعض مواقع پر کھلاڑی خود کھانا پکانے اور کپڑے دھونے پر مجبور رہے۔
کپتان کے مطابق ٹیم کو سولہ گھنٹے تک سڑک پر انتظار کرنا پڑا اور کھلاڑیوں کے واجبات بھی ادا نہیں کیے گئے۔ انہوں نے وزیراعظم اور آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے تاکہ آئندہ ایسے حالات دوبارہ پیدا نہ ہوں۔ دوسری جانب ٹیم مینجمنٹ نے اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے قومی ہاکی ٹیم کے معاملات میں مبینہ بدانتظامی کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے تعین کی ہدایت کر دی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ معاملے کی باقاعدہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور اگر غفلت ثابت ہوئی تو متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ نے بھی دورۂ آسٹریلیا کے دوران پی ایچ ایف کی مبینہ بدانتظامی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کے اقدامات سے نہ صرف ملک بلکہ قومی کھیل کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے اور ایسا رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
قومی ہاکی ٹیم کی حالیہ کارکردگی اور انتظامی معاملات نے کھیلوں کے حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ شائقینِ ہاکی اس بات کے منتظر ہیں کہ تحقیقات کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں اور قومی کھیل کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔