بیرسٹر گوہر سے کہا آپ اڈیالہ آجائیں سامنے معائنہ ہوجائے گا، لیکن وہ نہیں آئے: محسن نقوی


وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے علاج کے معاملے پر بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
محسن نقوی نے منگل کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دیا گیا عمران خان کی 85 فیصد بینائی جا چکی ہے، حالانکہ حکومت نے ان کا معائنہ بہترین سرکاری اور نجی ڈاکٹروں سے کرایا۔
محسن نقوی کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک مکمل چیک اپ ہوا اور میڈیکل رپورٹ اب ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں سب کچھ واضح ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان کو کہا تھا کہ وہ اڈیالہ جیل آ جائیں تاکہ ان کی موجودگی میں معائنہ ہو سکے۔

محسن نقوی نے کہا کہ ہم ایک گھنٹے تک انتظار کرتے رہے اور بیرسٹر گوہر نہیں آئے۔ بعد ازاں پی ٹی آئی رہنماؤں اور ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک بریفنگ لی اور علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔
وزیر داخلہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین نے بھی کہا کہ وہ بھی یہی علاج تجویز کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آنکھ میں انجکشن لگانے کے لیے بانی پی ٹی آئی کو احتیاطاً اسپتال لایا گیا، حالانکہ یہ انجکشن اڈیالہ جیل میں بھی لگایا جا سکتا تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان کو دی جانے والی تمام سہولیات ریکارڈ پر موجود ہیں اور ہر قیدی کا علاج کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر سیاست کی گئی اور اس سے چیک اپ میں تین دن کی تاخیر بھی ہوئی۔
ان کے مطابق حکومت اس معاملے کو سیاسی نہیں بنانا چاہتی اور لوگوں کو گمراہ کرنا درست عمل نہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا ان کا حق ہے اور ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے معاملات سنگین ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر باقاعدہ ملاقاتیں ہوتیں تو صورتحال اتنی خراب نہ ہوتی اور علاج سے متعلق ابہام بھی پیدا نہ ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر انہیں بانی سے ملنے دیا جاتا تو فیملی بھی مطمئن رہتی۔
گوہر علی خان نے کہا کہ جیل میں بانی کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور جو لوگ ان کی رہائی کے لیے کوشش کر رہے ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔
انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو بھی ہدایت کی کہ وہ ایسی بات نہ کریں جس سے عوام میں غلط فہمی پیدا ہو۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles