وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس اصلاحات کے لیے 3 ماہ کی ٹائم لائن مقرر کردی


وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے پولیس اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن کا اعلان کرتے ہوئے ایک جامع پیکیج متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تھانوں کے باہر شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے پنک بٹن نصب کیے جائیں گے اور تفتیش کے دوران ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی۔
پولیس کی کارکردگی میں شفافیت بڑھانے کے لیے ایف آئی آر کی آن لائن ٹریکنگ کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ ہر پولیس اسٹیشن کے دس اہلکاروں پر باڈی کیم نصب کی جائیں گی جبکہ شناختی کارڈ اور دیگر کاغذات کی گمشدگی کی ایف آئی آر بھی آن لائن درج کی جا سکے گی۔
وزیر اعلیٰ نے پولیس کو ہدایت کی کہ ہر شہری سے احترام کے ساتھ بات کی جائے اور چھوٹی شکایات دو سے تین گھنٹے میں حل کی جائیں۔ افسران کو بھی عوام سے فیڈبیک لینے کی پابندی ہوگی تاکہ پولیس کی شفافیت اور جوابدہی کو بہتر بنایا جا سکے۔
پولیس اصلاحات کے اس پیکیج میں خواتین کی حفاظت، تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ، ٹریفک قوانین کی بہتر عملداری اور عوامی اعتماد بحال کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے پولیس سے کہا کہ عوام کو صرف مجرموں سے ڈرنا چاہیے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں مجموعی جرائم میں 48 فیصد کمی اور بڑے جرائم میں 80 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پولیس نے گزشتہ برس عوامی شکایات کے مؤثر ازالے اور وقت پر رسپانس کے باعث منفی فیڈبیک کم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

پنجاب بھر میں 14 ہزار باڈی کیمز اور 700 پنک بٹن نصب کیے جائیں گے جبکہ شہریوں کی آسان رسائی کے لیے موبائل پولیس اسٹیشن اور سٹیزن مینجمنٹ ای-ٹیگ سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے پولیس اصلاحات کو شارٹ، مڈ اور لانگ ٹرم پلان کے تحت نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ پولیسنگ مزید مؤثر اور عوام دوست بن سکے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles