کراچی: سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کارکنان اور پولیس میں جھڑپیں، متعدد افراد زخمی، 10 سے زائد گرفتار


کراچی میں جماعت اسلامی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کی اجازت نہ ملنے پر علاقہ میدانِ جنگ بن گیا ہے۔ پولیس اور جماعت اسلامی کارکنان کے درمیان مسلسل جھڑپیں جاری ہیں، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی جبکہ متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا جاری ہے، جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں اور شیلنگ کے نتیجے میں صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جارہی ہے۔
جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد کارکنان زخمی ہوگئے ہیں جب کہ 10 سے زائد کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے ریڈ زون میں پریزن وینز بھی طلب کرلی گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مظاہرین کے پتھراؤ سے کچھ اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب مظاہرین پولیس کی جانب سے قائم حصار توڑ کر سندھ اسمبلی کے مرکزی دروازے تک پہنچ گئے ہیں۔
پولیس کی شیلنگ کے دوران ایک شیل سندھ اسمبلی کے قریب مسجد میں جا گرا، جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ اس دوران فائر بریگیڈ کی گاڑی آگ بجھانے پہنچی تو مظاہرین نے گاڑی کو قبضے میں لے کر پولیس پر پانی پھینکنا شروع کردیا۔
واضح رہے کہ جماعتِ اسلامی نے 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر رکھا تھا۔ انتظامیہ کی جانب سے سندھ اسمبلی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئی تھیں۔
انتظامیہ کی جانب سے احتجاجی مارچ کے شرکاء کو سندھ اسمبلی کی طرف جانے کی اجازت نہ ملنے پر پولیس اور کارکنان آمنے سامنے آگئے۔

پولیس اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے، جس کے بعد امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر، ایم پی اے محمد فاروق سمیت دیگر قائدین نے سندھ اسمبلی روڈ پر دھرنا دے دیا۔
پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور لاٹھی چارج شروع کردیا جس کے بعد مظاہرین مشتعل ہوگئے اور رکاوٹیں توڑ کر اسمبلی کی جانب بڑھنے میں کامیاب ہوگئے۔
صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا لنجار کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ آج شام 4 بجے مذاکرات ہونے تھے۔ جماعت اسلامی کو بتا دیا تھا کہ انہیں سندھ اسمبلی آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو تماشہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ جماعتِ اسلامی کو بتا دیا تھا کہ ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں۔ پولیس اورمقامی انتظامیہ جماعت اسلامی کےساتھ رابطے میں تھی، مشتعل کارکنان نے ریڈ زون میں پتھراؤ کیا،
شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کو کہا گیا تھا پُرامن احتجاج کریں لیکن ریڈزون میں داخل نہ ہوں۔ جماعت اسلامی کارکنوں نے اسمبلی میں گھسنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ سڑکیں بند ہونے سے عام شہری متاثرہوتا ہے۔ جماعت اسلامی کبھی شارع فیصل بلاک کردیتی ہے تو کبھی اسمبلی میں داخل ہوجاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات کرے گی لیکن جماعتِ اسلامی کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہئے۔
سندھ اسمبلی کے باہر اس وقت وقفے وقفے سے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ اسی دوران پولیس کی موٹرسائیکلوں کو بھی نذرِ آتش کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب امیر جماعت اسلامی منعم م ظفر کا کہنا ہے کہ ہم شہر کے بنیادی حقوق اور پانی کی فراہمی کے لیے نکلے تھے، ہمارے کارکنان پر تشدد اور شیلنگ کی گئی۔
جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی فسطائیت پورا ملک دیکھ رہا ہے، پرامن شہریوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور دھرنےسے روکنا بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بااختیار شہری حکومت کراچی کا حق ہے اور اہل کراچی اپنا یہ حق لے کر رہیں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles