سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن نے مختلف محکموں کو نوٹس جاری کردیے


سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے مختلف محکموں کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن نے گل پلازہ کے صدر تنویر پاستا کو بھی کمیشن میں طلب کرلیا ہے۔ کمیشن نے سینئر ڈائریکٹر لینڈ، چیف فائر افسر، ڈی سی جنوبی، ایس ایس پی سٹی، میڈیکو لیگل افسر سول اسپتال، ڈی آئی جی ٹریفک کو نوٹس جاری کردیے۔
اس کے علاوہ کمیشن نے سی ای او واٹر کارپوریشن، ڈی جی ایس بی سی اے، ڈی جی ریسکیو 1122، سی ای او کے الیکٹرک کو بھی نوٹسز جاری کیے۔

جوڈیشل کمیشن نے متعلقہ حکام کو 18 فروری کو کمیشن کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ 17 جنوری بروز ہفتے کی رات 10 بج کر 15 منٹ پر کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ لگی تھی، جس کے نتیجے میں 79 افراد جل کر جاں بحق اور 12 شدید زخمی ہوئے تھے، آگ اس قدر شدید تھی کہ مرنے والوں کی شناخت ڈی این اے سے بھی کرنا مشکل تھا۔
جس کے بعد سندھ حکومت نے کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی، جس نے متعدد افراد کے بیانات قلمبند کیے، اس دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں سینئر وزرا پر مشتمل کابینہ کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

سندھ حکومت نے 29 جنوری کو سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کے لیے جوڈیشنل کمیشن بنانے کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھا تھا۔ بعدازاں سندھ حکومت کے خط ملنے کے بعد چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے 4 فروری کو جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں جوڈیشنل کمیشن قائم کیا تھا۔
جوڈیشنل کمیشن سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ سندھ حکومت کو ارسال کرے گا، جس کی روشنی میں اہم شخصیات کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا اور ذمہ داران کا تعین کرے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles