
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اس لیے رمضان سے پہلے وہاں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
کواجہ آصف نے ایک انٹرویو اور بعد ازاں قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے افغانستان کی صورتحال، سکیورٹی چیلنجز اور ملکی سیاست پر کھل کر بات کی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو مسلسل افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کا سامنا ہے اور یہ سلسلہ رک نہیں رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر افغان حکام اس صورتحال میں صرف تماشائی بنے ہوئے ہیں تو انہیں شریک جرم سمجھا جائے گا، کیونکہ دہشت گرد عناصر کو روکنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیر دفاع نے محمود خان اچکزئی کے ایک بیان کا بھی ذکر کیا جس میں پاک فوج کو چار اضلاع کی فوج قرار دیا گیا تھا۔
خواجہ آصف نے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور الزام تراشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو اپنے نظریات رکھنے کا حق ہے، لیکن قومی اداروں پر حملہ کرنا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے قومی یکجہتی متاثر ہوتی ہے۔
وزیر دفاع نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ 2021 سے فروری 2026 تک 170 افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ جونیئر کمیشنڈ افسران اور جوانوں میں 212 اور مجموعی طور پر 2759 اہلکار شہید ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک کی حفاظت کے لیے کتنی بڑی قربانیاں دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 200 سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
ان کے مطابق یہ کارروائیاں ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں اور ریاست اپنی رٹ قائم رکھنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
سیاست پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بعض سیاست دان ایک گرے ایریا میں رہتے ہیں اور ذاتی مفادات کی جنگ لڑتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاست دان پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں، لیکن جو فوجی شہید ہوتے ہیں وہ اپنے عہد اور وفاداری نہیں بدلتے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی مفاد کو ذاتی اور سیاسی مفادات پر فوقیت دی جانی چاہیے۔