
پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ کھیلنے کے مشروط فیصلے پر شائقین کرکٹ اور دیگر عوامی حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے قومی ٹیم کو پندرہ فروری کو کولمبو میں بھارت کے خلاف میدان میں اترنے کا گرین سگنل دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب اتوار کے روز شائقین کرکٹ کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا تاریخی مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا کہنا ہے کہ ہم نے جو شرائط رکھی تھیں، آئی سی سی نے وہ تمام تسلیم کر لی ہیں۔
پی سی بی کے اس مؤقف کو پاکستان کے ساتھ بھارت میں بھی پاکستان کی جیت قرار دیا جارہا ہے۔
بھارت کی سیاسی جماعت کانگریس کی رہنما نِکی رندھاوا کا کہنا ہے کہ ”پاکستان کو وہ سب کچھ مل گیا جو وہ چاہتا تھا“۔
نکی رندھاوا نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ ”آئی سی سی عملی طور پر پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا ہے اور پی سی بی سے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی منتیں کرنے لگا ہے۔“
انہوں نے مزید لکھا کہ ”سرنڈر مودی نے ایک بار پھر ہتھیار ڈالنے کا اپنا ریکارڈ برقرار رکھا۔“
بھارتی کرکٹ بورڈ کے نائب صدر راجیو شُکلا نے بھی میڈیا سے گفتگو میں اسے ”ایک اچھا اور دوستانہ حل“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی اور پی سی بی نے کھیل میں کرکٹ کی اہمیت کو ترجیح دینے کے لیے نکالا۔
پاکستانی اسپورٹس جرنلسٹ صحافی فیضان لاکھانی نے بھی لکھا کہ ”جب ایک سربراہِ مملکت کسی ایسے میچ کے لیے پاکستان کا شکریہ ادا کرے جس میں ان کی اپنی ٹیم شامل بھی نہیں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ معاملہ محض کھیل سے کہیں بڑھ کر تھا۔“
تاہم، کرکٹ کی دنیا سے جڑے کچھ حلقوں نے پی سی بی اور بی سی سی آئی کے مؤقف سے اختلاف کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی کرکٹ امپائر رچرڈ کیٹلبورو نے پاکستان کے بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے پر راضی ہونے کو ’یوٹرن‘ قرار دیا۔
جبکہ سری لنکن اسپورٹس جرنلسٹ ڈینیئل الیگزینڈر نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ”پاکستان سے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے منتیں کرنا بھارت اور انڈین کرکٹ کونسل کے بے انتہا لالچ کو ظاہر کرتا ہے۔ خاص طور پر بھارت، جس نے پہلے پاکستان کے خلاف کھیلنے کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، اب محض مالی فائدے کے لیے کھیلنا چاہتا ہے، جو کہ ان کی عزتِ نفس اور وقار کی کمی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔“
ایک طرف تنقید اور حمایت کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب آئس لینڈ کرکٹ نے اپنے طنزومزاح کی روایت برقرار رکھتے ہوئے پاکستان اور بنگلہ دیش کو مشورہ دیا کہ ”ہمارے ساتھ سہہ فریقی سیریز کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا، کیونکہ ہم اس کے لیے ہاں کر دیتے اور میچوں کے لیے اپنے لاوے کے میدانوں میں سے کسی ایک پر محفوظ جگہ بھی فراہم کر دیتے۔ ہم اس قسم کی خطرناک چال بازیوں (برنکمین شپ) میں نہیں پڑتے۔“
واضح رہے کہ پاکستان کے بھارت سے میچ کھیلنے کے لیے راضی ہونے کا سب سے بڑا فائدہ بنگلہ دیش کو پہنچا ہے۔ بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ نے پاکستان سے خصوصی درخواست کی تھی کہ وہ بھارت کے خلاف میچ کھیلے تاکہ عالمی کرکٹ کا نظام متاثر نہ ہو۔
پاکستان کی اس حمایت کے نتیجے میں آئی سی سی نے بنگلہ دیش پر کسی بھی قسم کا جرمانہ یا پابندی نہ لگانے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی بنگلہ دیش کو مستقبل میں ایک بڑے عالمی ایونٹ کی میزبانی بھی تحفے میں مل گئی ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام نے اس مشکل گھڑی میں ساتھ دینے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ادھر میچ کا اعلان ہوتے ہی شائقین کرکٹ کا جوش و خروش ساتویں آسمان پر پہنچ گیا ہے۔ کولمبو کے لیے ٹکٹوں کے قیمتوں میں دو لاکھ روپے تک کا ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
کولمبو کی ہوٹل انڈسٹری میں بھی نئی جان آ گئی ہے اور وہاں ہوٹلوں کی بکنگ تیزی سے مکمل ہو رہی ہے۔