
بدنام زمانہ امریکی ارب پتی اور جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی قریبی دوست اور جنسی جرائم میں سزا یافتہ گزلین میکسویل نے امریکی کانگریس کی کمیٹی کے سامنے خاموشی توڑنے کے لیے ایک بڑی شرط رکھ دی ہے۔
ٹیکساس کی جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے ہوئے انہوں نے تمام سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیا اور اپنے خاموش رہنے کے قانونی حق کا استعمال کیا۔
تاہم ان کے وکیل نے واضح کیا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کی سزا معاف کرنے کا اعلان کریں تو وہ تمام حقائق اور ناموں سے پردہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
گزلین میکسویل اس وقت کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال میں معاونت کے جرم میں بیس سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
کمیٹی کے ارکان گزلین سے اُن بااثر شخصیات کے بارے میں پوچھنا چاہتے تھے جو اس جرم میں ایپسٹین کے ساتھی رہے ہیں، لیکن میکسویل نے خاموشی اختیار کر کے تفتیش کاروں کو مایوس کیا۔
ریپبلکن کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر نے اس رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکی عوام کے لیے سچائی اور متاثرہ خواتین کے لیے انصاف چاہتے تھے، لیکن میکسویل نے تعاون نہیں کیا۔
دوسری جانب میکسویل کے وکیل ڈیوڈ آسکر مارکس کا کہنا ہے کہ صرف ان کی موکلہ ہی اس پورے معاملے کی مکمل اور سچی کہانی بیان کر سکتی ہیں، لیکن اس کے لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے معافی ضروری ہے۔
وکیل کے مطابق کچھ لوگ وہ سچ سننا پسند نہیں کریں گے جو میکسویل کے پاس ہے، لیکن سچائی بہرحال اہمیت رکھتی ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ میکسویل کو کسی قسم کی رعایت دینے پر کوئی غور نہیں کیا جا رہا۔
ایپسٹین کے جرائم سے متاثرہ خواتین کے ایک گروپ نے قانون سازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ میکسویل کی باتوں پر بھروسہ نہ کریں۔
اُن کا کہنا ہے کہ میکسویل نے ہمیشہ ان طاقتور مردوں کو بچایا ہے جو اس گندے دھندے میں شامل تھے، اس لیے اسے کسی قسم کی رعایت دینا انصاف کا قتل ہوگا۔
اس دوران امریکی محکمہ انصاف نے اس کیس سے متعلق لاکھوں صفحات پر مشتمل نئی دستاویزات بھی جاری کی ہیں جن کا جائزہ اب کانگریس کے ارکان لے سکیں گے۔
تفتیش کار اب بھی اس کوشش میں ہیں کہ ان تمام چہروں کو بے نقاب کیا جائے جو اس گھناؤنے کاروبار کا حصہ رہے ہیں۔