’جائیں عمران خان کی حالتِ زار کا جائزہ لیں‘: سپریم کورٹ کی سلمان صفدر کو خصوصی اجازت


سپریم کورٹ آف پاکستان نے توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے اور انہیں اس معاملے میں ’فرینڈ آف کورٹ‘ (عدالت کا نمائندہ) مقرر کیا ہے۔
منگل کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران واضح حکم دیا کہ سلمان صفدر جیل جا کر بانی پی ٹی آئی کی حالت زار اور انہیں وہاں میسر سہولیات کا جائزہ لیں اور اس بارے میں ایک تفصیلی تحریری رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو خاص طور پر ہدایت کی کہ بیرسٹر سلمان صفدر کی اس ملاقات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہونی چاہیے۔
عدالت نے سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں جیل میں ملاقات کے دوران کسی بھی قسم کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑے تو وہ براہ راست عدالت سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے بھی بانی پی ٹی آئی سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ تمام حقائق سامنے آ سکیں۔
دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی اٹک جیل میں قید کے دوران 5 اگست سے 18 اگست 2023 تک کی رپورٹ فراہم کر دی گئی ہے تاہم عدالت نے تازہ صورتحال جاننے کے لیے سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیا ہے۔
وکیل لطیف کھوسہ نے بھی عدالت کے سامنے یہ شکایت رکھی کہ انہیں ملاقات کے لیے رسائی نہیں مل رہی جس پر چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالتی حکم کے مطابق سلمان صفدر آج ہی ملاقات کے لیے روانہ ہوں گے۔

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ان پر ایک بھاری ذمہ داری ڈالی گئی ہے اور وہ عدالت کی جانب سے تفویض کردہ ڈیوٹی کے تحت جیل جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کی ملاقات دن دو بجے ہوگی جس کے بعد وہ اپنی رپورٹ تیار کریں گے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کل سلمان صفدر کی رپورٹ دیکھنے کے بعد پرسوں اس کیس کی مزید سماعت کی جائے گی جس کے لیے کارروائی 12 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles