
روس نے ماسکو میں روسی انٹیلی جینس ایجنسی کے نائب سربراہ پر حملے کے مشتبہ ملزم کو دبئی سے گرفتار کر کے ماسکو منتقل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو فون کیا اور تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے ملٹری انٹیلی جنس کے نائب سربراہ لیفٹینیٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف پر حملے کے مشتبہ ملزم کو متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر کے روس منتقل کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گرفتار یوکرینی شہری جمعے کی صبح ماسکو میں واقع ایک گھر میں جنرل الیکسییف پر فائرنگ کے بعد دبئی فرار ہوگیا تھا۔ جہاں اسے متحدہ عرب امارات کے حکام کے تعاون سے گرفتار کر کے روس کے حوالے کیا گیا۔
روس کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کو فون کیا اور روسی جنرل پر حملے کے مشتبہ ملزم کی گرفتاری میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ جنرل ولادیمیر الیکسییف جمعے کے روز ماسکو میں ایک اپارٹمنٹ میں فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہوگئے تھے، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔
روسی حکام کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 60 سالہ جو یوکرینی شہری لیوبومیر کوربا دسمبر کے آخر میں روس پہنچے اور انہوں نے یوکرین کی ایما پر ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دیں۔
روسی حکام کے مطابق روسی جنرل پر فائرنگ کے واقعے میں مزید دو افراد بھی شامل تھے۔ ایک سہولت کار کو ماسکو سے گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ تیسرا ملزم مبینہ طور پر یوکرین فرار ہونے میں کامیاب رہا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ یوکرین کی ایما پر کیا گیا تھا تاکہ امن مذاکرات کو سبوتاژ کیا جا سکے، تاہم یوکرین نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔