
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا آپریشن نہیں ہوا ہے بلکہ انجیکشن لگائے گئے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کو کسی قسم کی حق تلفی یا شکایت ہے تو اس کے لیے متعلقہ عدالتیں اور اپیلٹ ٹریبونلز موجود ہیں، جہاں قانونی طریقہ کار کے مطابق رجوع کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے خود پمز اسپتال میں علاج کروانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور اگر دوبارہ ایسا کوئی معاملہ سامنے آیا تو انہیں تمام ممکنہ طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
اعظم نذیر نے طبی حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 60 سال کی عمر کے بعد آنکھ میں بلڈ سرکولیشن کے مسائل بہت سے افراد کو لاحق ہوتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کو بھی وہی انجیکشن لگایا گیا جو عام مریضوں کو لگتا ہے، بانی پی ٹی آئی کا کوئی آپریشن نہیں ہوا بلکہ صرف انجیکشن دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قانون کا نفاذ بھی ایک باقاعدہ قانونی عمل کے تحت ہوتا ہے اور کسی کے ساتھ بھی غیر قانونی یا غیر آئینی سلوک نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹرائل کے نتیجے میں سابق وزیراعظم کو سزا سنائی گئی اور بانی پی ٹی آئی اس وقت جیل میں ہیں۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وزیراعظم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو سہولتیں نہ دی جائیں، بلکہ وزیراعظم نے پمز اسپتال کے ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ تمام حقائق پر مبنی پریس ریلیز جاری کی جائے تاکہ عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور دعا ہے کہ وہ مکمل صحت مند رہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پولیس حراست میں ایریا مجسٹریٹ کی نگرانی ہوتی ہے جبکہ سزایافتہ مجرم کے معاملات اپیلٹ ٹریبونل دیکھتا ہے۔ اگر جیل میں سہولتیں فراہم نہ ہونے کی شکایت ہو تو سپرنٹنڈنٹ جیل اور عدالت اپیلٹ ٹریبونل متعلقہ فورمز ہیں۔
وفاقی وزیر قانون نے سابق وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رانا ثنااللہ کو منشیات کے ایک ناحق مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، گرفتاری سے نو دن قبل انہیں آنکھ کا فالج ہوا، جس جیل میں انہیں رکھا گیا وہاں درجہ حرارت 50 ڈگری سے زیادہ تھا اور شدید گرمی میں وہ فرش پر سونے پر مجبور تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے وزیراعظم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ کسی قیدی سے علاج یا سہولتیں روکی جائیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ جیل میں ملاقات کے طریقہ کار کے لیے بھی اپیلٹ ٹریبونل سے رجوع کرنا ہوتا ہے، جبکہ عدالتیں نوٹیفائیڈ ہیں اور کیسز کی باقاعدہ نگرانی کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک کمیٹی میں حال ہی میں ٹرانس جینڈر ممبران کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن کے مسائل اور شکایات پر غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون کے مطابق جیل میں الگ سیل اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے مطالبات پر قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹنگ آف کرائم سے لے کر ٹرائل تک تمام اقدامات قانون کے مطابق کیے گئے، جبکہ آرڈیننس کے تحت قانونی ترامیم پارلیمنٹ سے منظور کرائی گئیں، جو مکمل طور پر آئینی اور قانونی دائرہ کار میں ہیں۔