تیل کی اسمگلنگ سے یومیہ 4 ارب روپے کمائے جا رہے تھے: خواجہ آصف


وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حقوق کے نام پر جاری تحریک کا جھوٹا بیانیہ دم توڑ چکا ہے۔ جرائم پیشہ افراد تیل کی اسمگلنگ سے یومیہ چار ارب روپے کما رہے تھے تاہم حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے اسمگلنگ کی روک تھام کے بعد اب یہ گروہ صوبے میں بدامنی پھیلا رہا ہے۔
پیر کے روز قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان کے حقوق کے نام پر سرگرم تحریک بنیادی طور پر کاروباری نقصانات کے ازالے کیلئے چلائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ افراد سرگرم ہیں۔ یہ لوگ تیل کی اسمگلنگ سے روزانہ چار ارب روپے کمارہے تھے اور اسمگلرز کو تحفظ فراہم کر رہے تھے۔ حکومتِ پاکستان اور پاک افواج ان گروہوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں، جس سے ان کے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ افغانستان یا دیگر ممالک کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت جانے والا سامان دوبارہ پاکستان لا کر مقامی منڈیوں میں فروخت کیا جاتا تھا۔ حکومت نے اس غیر قانونی عمل کے خلاف سخت اقدامات کیے، جس کے بعد چمن بارڈر سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاج دیکھنے میں آیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں بیوروکریسی، قبائلی قیادت اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ موجود ہے۔ یہ نیٹ ورک صرف تیل کی اسمگلنگ سے روزانہ 4 ارب روپے کماتا تھا۔ ایران سے اجازت نامے کے تحت 40 روپے فی لیٹر تیل خرید کر 200 روپے لیٹر پر فروخت کیا جاتا تھا۔

انہوں نے بلوچستان میں بدامنی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تیل کی اسمگلنگ روکنے پر یہ نیٹ ورک بلوچستان میں بدامنی پھیلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور پاک افواج ان گروہوں سے برسرِپیکار ہیں۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بلوچستان میں بھارت کے حمایت یافتہ عناصر بطور پراکسی سرگرم رہے ہیں جبکہ افغانستان کی سرزمین بھی صوبے میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور وہیں سے انہیں معاونت ملتی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ لوگ دہشت گردوں یا اس نام نہاد تحریک سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ اس گروہ کی کوئی سیاسی یا قوم پرستانہ شناخت باقی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کارروائیوں میں مارے گئے 170 سے زائد دہشت گرد اسی جرائم پیشہ گروہ سے تعلق رکھتے تھے، ان کا انسانی حقوق یا قوم پرستی کا دعویٰ محض ایک جھوٹا بیانیہ تھا جو اب بے نقاب ہوچکا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles