ایپسٹین فائلز میں مودی کے نام کا دعویٰ، بھارت میں ہنگامہ

بدنام زمانہ امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق سامنے آنے والی فائلز میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا نام سامنے آنے کے بعد بھارت کی سیاست میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ بھارت میں اپوزیشن جماعت ’کانگریس‘ نے اس معاملے پر مودی حکومت سے وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے کئی سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ حکومتی سطح پر تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کی ایک مبینہ ای میل منظر عام پر آئی ہے جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ مودی نے اسرائیل کے دورے سے قبل اس سے مشورہ کیا تھا۔

اسی ای میل میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اسرائیل کے دورے کے دوران ہونے والی سرگرمیوں سے اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سیاسی فائدہ پہنچا۔

ان دعوؤں کے بعد کانگریس نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ ای میل درست ہے تو اس کے پس منظر اور مقاصد کیا تھے۔

کانگریس کے مطابق نریندر مودی نے 2017 میں اسرائیل کے دورے سے پہلے امریکا کا سفر کیا اور اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ ان مبینہ انکشافات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مودی اور ایپسٹین کے درمیان قریبی روابط تھے، جس کی وضاحت عوام کے سامنے آنا ضروری ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں استعمال ہونے والے الفاظ جیسے ”it worked“ سے کیا مراد ہے اور اس جملے کا تعلق کن واقعات سے جوڑا جا رہا ہے۔

کانگریس کے مطابق قوم کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان فائلز میں کیے گئے دعوے کس حد تک درست ہیں اور اگر بے بنیاد ہیں تو حکومت واضح طور پر اس کی تردید کرے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles