بلوچستان میں 70 سے زائد دہشتگردوں کی ہلاکت، مزید حملوں کی کوشش ناکام


سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلوچستان کے مختلف شہروں میں بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے ایک ساتھ کیے گئے کئی حملے ناکام بنا دیے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی شاہد رند نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ دو روز کے دوران 70 سے زائد دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث ان کے تمام منصوبے ناکام رہے۔
شاہد رند کے مطابق، دہشتگردوں کے بھاری نقصانات کے بعد صوبے کے چند مقامات پر حملے کی کوششیں کی گئیں، تاہم پولیس اور فرنٹیئر کور نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے تمام حملوں کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ چند دہشت گردوں نے بلوچستان کے مختلف مقامات پر حملے کی کوشش کی، لیکن پولیس اور فرنٹیئر کور نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرکے تمام حملے ناکام بنا دیے۔
شاہد رند کے مطابق بھاگنے والے دہشت گردوں کا پیچھا ابھی جاری ہے اور مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔
دوسری جانب سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کوئٹہ میں موبائل ڈیٹا سروس غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ آج اندرون صوبہ اور بلوچستان سے اندرون ملک کے لیے تمام ٹرین آپریشنز بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔
جعفر ایکسپریس، بولان میل، چمن پیسنجر ٹرین اور زاہدان سیکشن پر ٹرین سروس معطل ہے جبکہ پشاور سے آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد پر روک دیا گیا۔
ریلوے حکام کے مطابق متاثرہ مسافروں کے ٹکٹ واپس کیے جائیں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles