
امریکا کے درمیان کشیدگی میں ایرانی ڈرونز نے امریکی بحری بیڑے کے لیے مزید خطرات میں اضافہ کردیا ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق ایرانی ڈرون بیڑے، خاص طور پر کم قیمت والے ڈرون جو خود کو ہدف پر مارنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، امریکی بحری جہازوں، بشمول یو ایس ایس ابراہیم لنکن کیرئیر اسٹریک گروپ، کے لیے حقیقی خطرہ ہیں۔
ڈرون کمپنی ڈراگن فلائی کے سی ای او کیمرون چیئل کے مطابق ایران کی جانب سے کم قیمت ڈرونز کو بڑے پیمانے پر لانچ کرنا امریکی جدید دفاعی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔
چیئل نے مزید کہا کہ اگر سیکڑوں ڈرونز ایک ہی وقت میں حملہ کریں تو کچھ لازمی طور پر دفاعی نظام سے گزر جائیں گے۔ ’جدید دفاعی نظام پہلے ایسے سیر شدہ حملوں کے لیے نہیں بنائے گئے تھے۔‘
امریکی فوجی حکام کے مطابق، یو ایس ایس ابراہیم لنکن اسٹریک گروپ ابھی سنٹرل کمانڈ کے زیرِ نگرانی علاقے میں داخل نہیں ہوا، لیکن وہ جلد ہی مشرقِ وسطیٰ میں موجودگی مضبوط کرنے کے لیے تعینات کیا جائے گا۔
امریکی فضائی، زمینی اور بحری اثاثے بھی بڑھا دیے گئے ہیں، اور F-15 لڑاکا طیارے اور بھاری ساز و سامان لے جانے والے C-17 طیارے خطے میں پہنچ چکے ہیں۔
چیئل نے کہا کہ ایران نے ابتدائی طور پر ’کیٹیگری ون اور کیٹیگری ٹو‘ ڈرون سسٹمز میں برتری حاصل کر رکھی ہے، جو کم قیمت اور بڑی تعداد میں پیدا کیے جا سکتے ہیں اور جو غیر متوازن جنگ میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ جبکہ ’کیٹیگری تھری‘ سسٹمز میں ایران امریکا سے کئی دہائیوں پیچھے ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 جنوری کو اس تعیناتی کے بارے میں کہا کہ ’ہمارا ایک بڑا بحری بیڑا اس طرف جا رہا ہے، اور ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کچھ نہ ہو، لیکن ہم ان کی حرکات کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔‘