
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بنگلہ دیش کو ٹی 20 ورلڈ کپ سے باہر کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ گروپ سی میں بنگلہ دیش کی جگہ لے گا جہاں پہلے ہی انگلینڈ، اٹلی، نیپال اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اب بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش نے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کو بنیاد بناتے ہوئے ٹیم کو بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنے میچز کے وینیوز میں تبدیلی کی باضابطہ درخواست آئی سی سی کو دی تھی تاہم آئی سی سی کی جانب سے اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔
آئی سی سی کی جانب سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو ایونٹ میں شرکت کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کے لیے ایک دن کی مہلت دی گئی تھی اور واضح کیا گیا تھا کہ اگر بنگلہ دیش نے شرکت سے انکار کیا تو اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔
آئی سی سی کے مطابق بنگلہ دیش کی درخواست کے بعد بھارت میں سیکیورٹی صورتحال کا مختلف ماہرین کے ذریعے جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو بھارت میں کسی خاص سیکیورٹی خطرات کا سامنا نہیں تھا۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ آئی سی سی اور بنگلہ دیشی حکام کے درمیان تین ہفتوں تک مذاکرات جاری رہے تاہم ٹورنامنٹ کے آغاز میں کم وقت باقی ہونے کے باعث بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی درخواستوں کو پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔ جس کے بعد بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے، جبکہ بھارت اور سری لنکا اس ایونٹ کے مشترکہ میزبان ممالک ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی اور پی سی بی اس معاملے پر حکومتی ہدایات کا پابند ہے۔
محسن نقوی نے اس معاملے پر کہا کہ بنگلادیش کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور کسی ایک ملک کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ دیگر کرکٹ بورڈز کو ڈکٹیٹ کرے۔ آئی سی سی کو تمام رکن ممالک کے ساتھ یکساں اور منصفانہ سلوک کرنا چاہیے۔