
سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق فائر فائٹر دوسروں کی زندگی بچاتے ہوئے اپنی ہی جان کی بازی ہار گیا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ فرقان کا چھ ماہ کا ایک بیٹا ہے، جسے وہ وکیل بنانا چاہتا تھا۔
گل پلازہ میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ نے شہر بھر میں صفِ ماتم برپا کر دیا ہے۔
اس سانحے میں متاثر ہونے والے درجنوں خاندانوں میں فائر فائٹر فرقان علی کا خاندان بھی شامل ہے، جس نے شعلوں میں گھری عمارت میں پھنسے افراد کو بچانے کے دوران اپنی جان قربان کر دی۔
اہلِ خانہ کے مطابق 38 سالہ فرقان بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا اور ہر کسی کا لاڈلا تھا۔ غم سے نڈھال بہنوں کا کہنا ہے کہ فرقان ان کے لیے والد کی جگہ اور خاندان کا سہارا تھا۔
گل پلازہ کی آگ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے فرقان کی شادی کو ابھی ڈیڑھ سال کا عرصہ ہی گزرا تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق فرقان کا چھ ماہ کا ایک بیٹا ہے، جسے اس نے وکیل بنانے کے خواب دیکھ رکھے تھے۔
شہید فرقان کے بھائی کے مطابق ہفتے کی شام اس کی فرقان سے آخری ملاقات ہوئی تھی جبکہ اگلی صبح موبائل پر بات ہوئی، اس کے بعد کوئی رابطہ نہ ہو سکا۔ اہلِ خانہ کے مطابق فرقان علی اپنے پیچھے چھ ماہ کا بیٹا، بیوہ، دو بھائی اور چار بہنیں سوگوار چھوڑ گیا ہے۔
فرقان کا ذکر کرتے ہوئے اہل خانہ کی آواز بھر آتی ہے اور الفاظ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ فرقان علی اپنے پیچھے چھ ماہ کا معصوم بیٹا، بیوہ، دو بھائی اور چار بہنیں سوگوار چھوڑ گیا ہے جو آج بھی اس کے انتظار میں گھر کے دروازے پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔
اہلِ خانہ نے حکومت سے فرقان کی بیوہ کے لیے روزگار کا بندوبست کرنے اور بچے کے تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب پیر کے روز جاں بحق فائر فائٹر فرقان کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے ان کے گھر پہنچے اور لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے کی مالی معاونت کا اعلان کیا۔
مرتضٰی وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہید فرقان کی بیوہ کو ملازمت فراہم کرے گی جبکہ بچے کے تمام تعلیمی اخراجات بھی برداشت کیے جائیں گے۔
انہوں نے فرقان کی لازوال خدمات کے اعتراف میں ناظم آباد فائر اسٹیشن کا نام شہید فرقان کے نام سے منسوب کرنے کا بھی اعلان کیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی فرقان علی کی شجاعت کو سراہتے ہوئے سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کی ہے۔