کراچی: گل پلازہ کا کمپلیکس پلان اور تعمیراتی تفصیلات سامنے آگئیں


کراچی میں ہولناک آتشزدگی کا شکار گل پلازہ کا کمپلیکس پلان اور تعمیراتی تفصیلات آج نیوز نے حاصل کرلیں ہیں، ایس بی سی اے کے مطابق 1980 کی دہائی میں تعمیر گل پلازہ میں 1021 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی، نقشے کے برخلاف 1200 دکانیں تعمیر کی گئیں، گل پلازہ میں باہر نکلنے کے راستوں پر بھی دکانیں بن گئیں، جس کے باعث لوگ باہر نہیں نکل سکے۔
کراچی کی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ چند ان صف اول کے کاروباری مراکز میں شمار کیا جاتا ہے جہاں یومیہ بنیادوں پر سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے آتے تھے اور یہاں سے تھوک کا کام بھی ہوتا تھا لیکن بد قسمتی سے چند گھنٹوں میں جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا ہے۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کی کیا وجوہات ہیں اور کیا اسباب بنے، ان کا تو تحقیقات کے بعد پتہ چلے گا لیکن چند بے ضابطگیاں تو ہوئی ہیں۔ نقشے کے مطابق جتنی دکانیں بنانے کی اجازت دی گئی اس سے کئی زیادہ دکانیں بنائی گئیں جب کہ خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔

اس حوالے سے آج نیوز کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے تمام اہم دستاویزات موصول ہوئے ہیں، جن میں نقشوں کی منظوری سمیت اہم معلومات شامل ہے۔
آج نیوز کو موصول گل پلازہ کا کمپلیکس پلان اور تعمیراتی تفصیلات کے مطابق گل پلازہ کی عمارت 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دستاویزات کے مطابق 1998 میں گل پلازہ کی عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئی تھی، پارکنگ ایریا میں دکانیں بنیں اور چھت کو پارکنگ میں بدلا گیا جب کہ 2003 میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولائز کیا گیا تھا۔
ایس بی سی اے کے مطابق گل پلازہ کے مالک نے 14 اپریل 2003 کو کمپلیشن حاصل کیا تھا۔ نقشے کے مطابق گل پلازہ میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت دی گئی تھی۔ نقشے کے مطابق 1021 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی لیکن نقشے کے برخلاف گل پلازہ میں 1200 دکانیں تعمیر کی گئی تھیں، گل پلازہ میں 179 دکانیں منظور شدہ نقشے سے زائد تعمیر ہوئیں جب کہ گل پلازہ میں راہداری اور باہر نکلنے کی جگہوں پر دکانیں بنائی گئیں۔

ممکنہ طور پر جو غیر قانونی طور پر دکانیں تعمیر کی گئیں اس کے سبب لوگ پلازہ سے باہر نہیں نکل سکے تاہم اس حوالے سے تحقیقاتی ٹیم ہی حتمی رپورٹ دے سکتی ہے کہ کیا وجوہات ہوئی ہیں کہ آتشزدگی کے بعد اس پر قابو کیوں نہیں پایا جا سکا اور لوگ باہر کیوں نہیں نکل سکے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles