
گوئٹے مالا کے صدر نے اتوار کو ملک میں محاصرہ (State Of Siege) نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے، جب سیکیورٹی فورسز نے جیل کے درجنوں پولیس اہلکاروں کو قیدیوں کے یرغمال بنائے جانے سے آزاد کرایا۔ اس اقدام کے ساتھ ہی ہفتے کے آخر میں ہونے والے گینگ تشدد کا بھی خاتمہ ہوا، جس میں کم از کم سات پولیس اہلکار ہلاک اور 10 زخمی ہوئے تھے۔
رائٹرز کے مطابق ہنگامہ آرائی کرنے والے قیدیوں نے ہفتے کے روز تین مردوں کی جیلوں میں 46 جیل اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
حکومت نے ان فسادات کا الزام گینگ بیریو 18 پر عائد کیا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ جیلوں میں اپنے ارکان کے لیے مزید مراعات حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔
جب سیکیورٹی فورسز نے اس جیل پر دوبارہ قبضہ حاصل کیا جہاں گینگ کا سربراہ الدو ڈپی قید تھا، تو اس کے بعد گینگ کے افراد نے گوئٹے مالا سٹی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پولیس پر حملے شروع کر دیے۔ اس دوران گینگ کے سربراہ کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
بعد ازاں صدر برنارڈو آریوالو نے 30 روزہ اسٹیٹ آف سیج کا اعلان کیا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس سے ریاست کی پوری طاقت، بشمول پولیس اور فوج، کو گینگ تشدد کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت ملے گی۔
گوئٹے مالا کے قانون کے تحت، اسٹیٹ آف سیج کے نفاذ سے عوامی نظم و نسق کو لاحق خطرات کے جواب میں شہری آزادیوں کو عارضی طور پر محدود یا معطل کیا جا سکتا ہے اور سیکیورٹی فورسز کے اختیارات میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
گوئٹے مالا کی کانگریس نے اکتوبر 2025 میں بیریو 18 کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا، جو اس وقت کے فوراً بعد ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس گینگ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پر فہرست میں شامل کیا تھا۔