
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد اس کی نگرانی، سیکیورٹی اور بحالی کے لیے بین الاقوامی کمیٹی کا اعلان کیا ہے جسے ’بورڈ آف پیس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس بورڈ میں شامل تمام افراد غیر ملکی ہیں اور کسی بھی فلسطینی شخصیت کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے نام نہاد ’بورڈ آف پیس‘ کے بعض ارکان کے ناموں کا اعلان کیا ہے جس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔
اس بورڈ میں ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، ترکیہ، قطر، مصر، یو اے ای کے وزرائے خارجہ کے علاوہ فوجی افسران بھی شامل ہیں جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود اس بورڈ کے چیئرمین ہوں گے۔
اکتوبر میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ٹرمپ کے منصوبے پر اتفاق کیا تھا۔ اس منصوبے میں طے پایا تھا کہ غزہ کی حکمرانی ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک ادارے کے سپرد کی جائے گی، جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی بورڈ آف پیس کرے گا اور یہ انتظام ایک عبوری مدت کے لیے ہوگا۔
وائٹ ہاؤس نے تاحال بورڈ آف پیس کے اعلان کردہ ارکان کی ذمہ داریوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فلسطینی علاقے کی نگرانی کے لیے قائم بورڈ میں کسی فلسطینی کا ہی نام شامل نہیں کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنان نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی غیر ملکی علاقے کے انتظام کی نگرانی کے لیے صدر ٹرمپ کی سربراہی میں بورڈ قائم کرنا نوآبادیاتی ڈھانچے سے مشابہت رکھتا ہے۔
اسی طرح ٹونی بلیئر کی شمولیت پر بھی اعتراضات سامنے آرہے ہیں جن پر عراق جنگ میں ان کے کردار اور مشرق وسطیٰ میں برطانوی سامراجی تاریخ کے باعث تنقید کی جاتی ہے۔