
ایران نے ملک بھر میں جاری احتجاج کے بعد منگل کے روز اپنے شہریوں کو موبائل فون کے ذریعے بیرونِ ملک کال کرنے کی اجازت دے دی ہے، تاہم انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سروسز بدستور معطل ہیں۔ ریاست مخالف مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 646 ہو گئی ہے۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں موجود افراد نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا کہ اگرچہ وہ بیرونِ ملک کال کرنے کے قابل ہو گئے ہیں، تاہم ملک سے باہر موجود افراد ایران میں فون نہیں کر سکتے۔
اے پی کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایس ایم ایس سروس اب بھی بند ہے اور ایرانی صارفین غیر ملکی ویب سائٹس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے، البتہ سرکاری طور پر منظور شدہ مقامی ویب سائٹس دستیاب ہیں۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا حکام آئندہ دنوں میں مزید پابندیاں نرم کریں گے یا نہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ جمعرات کو حکومت نے ملک گیر مطاہروں کے دوران اندرون و بیرونِ ملک تمام مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے تھے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے جنوب مشرقی شہر زاہدان میں اسرائیل سے منسلک ’’دہشت گرد گروہوں‘‘ کو گرفتار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ گروہ ایران کی مشرقی سرحدوں کے راستے داخل ہوا تھا اور امریکی ساختہ اسلحہ اور دھماکا خیز مواد رکھتا تھا۔
ایسوسی ایٹیڈ کے مطابق اسرائیلی فوج نے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری احتجاج کے باعث وہ غیر متوقع صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے اورشہریوں کے لیے ہدایات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اسرائیل کے مطابق ایران کے مظاہرے اس کا اندرونی معاملہ ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے ایرانی حکام سے پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد اور کریک ڈاؤن فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وولکر ترک نے 2022 کی احتجاجی لہر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ادھر، فرانسیسی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ تہران میں سفارت خانے کی تنظیمِ نو کی گئی ہے اور غیر ضروری عملہ ملک چھوڑ چکا ہے، تاہم سفیر بدستور موجود ہیں اور سفارت خانہ کام کر رہا ہے۔
امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران میں جاری احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 646 ہو چکی ہے، جن میں 512 مظاہرین اور 134 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ ایجنسی کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں 10 ہزار 700 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ایرانی حکومت نے تاحال ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔ ایران میں انٹرنیٹ اور بین الاقوامی فون سروس بند ہونے کے باعث حالات کی آزادانہ تصدیق بھی مشکل ہوگئی ہے۔
خیال رہے کہ ایران میں حالیہ واقعات کے بعد پیر کے روز ملک بھر میں دسیوں ہزار افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ تہران سمیت مختلف صوبوں میں عوام کے مختلف طبقات نے مبینہ غیر ملکی حمایت یافتہ ہنگاموں اور دہشت گردی کے خلاف ملک گیر ریلیوں میں شرکت کی اور اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے نظام اور قیادت سے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔
سرکاری حکام نے ان ملک گیر مظاہروں کو دشمن کی جانب سے انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کی سازشوں کے مقابلے میں قومی اتحاد اور یک جہتی کا ناقابلِ تردید ثبوت قرار دیا۔
حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ (دسمبر2025) میں بعض شہروں میں تاجروں نے معاشی دباؤ کے خلاف پُرامن احتجاج کیا تھا، تاہم بعد ازاں امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کے بیانات اور اسرائیل سے وابستہ فارسی نشریاتی اداروں کی ترغیب کے نتیجے میں یہ مظاہرے پرتشدد رخ اختیار کر گئے اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔