
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے احتجاج کے بعد حکومت نے اسپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس 2026 واپس لے لیا ہے۔
قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کا احتجاج کام کر گیا، جس کے بعد حکومت نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اسپیشل اکنامک زونز (ترمیمی) آرڈیننس 2026 واپس لینے کی منظوری دے دی۔
آرٹیکل 89(2)(b) کے تحت صدرِ مملکت کو آرڈیننس واپس لینے کا مشورہ دے دیا گیا جب کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کی سمری پر دستخط کر دیے، جس کے بعد آرڈیننس واپس لینے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے آج صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زونزآرڈیننس جاری کرنے پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا تھا جب کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صدر کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زونزآرڈیننس جاری کرنے پرپارلیمانی پارٹی اجلاس بھی بلانے کا اعلان کیا تھا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلزپارٹی کے ارکان نے ایوان چھوڑ سے واک آؤٹ کیا، تاہم اس دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ انہیں اس عمل سے روکتے رہے۔
نوید قمر نے کہاکہ قانون سازی اس ایوان کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن پہلی مرتبہ حکومت نے ایک ایسا آرڈیننس نافذ کر دیا جو صدر کی توثیق کے بغیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اس صورتحال میں وہ ایوان کا حصہ نہیں رہیں گے۔
اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کے ارکان سوشل میڈیا پر چلنے والی باتوں کو سیریس لینے کے بجائے میری بات سن لیں۔ انہوں نے واضح کیاکہ حکومت صدر کی توثیق کے بغیر آرڈیننس کو نوٹیفائی نہیں کرے گی۔